universe

تخلیق کائنات کا اہم ترین مقصد معرفت محمدی ہے

حضور اکرم ﷺ کی شان’’وما ینطق عن الہوی ان ہو الا وحی یوحی ‘‘ہے،وحی قرآن ودحدیث دونوں پر شامل لہذا اس کے مضامین میں اختلاف نہیں پایا جاتا، ارشاد ہے ’’لو کان من عند غیر اﷲ لوجدوا فیہ اختلافا کثیرا‘‘ چنانچہ حدیث شریف ’’لولاک لما خلقت الدنیا‘‘ (مواہب لدنیہ) اور آیت مبارکہ ’’وما خلقت الجن والانس الا لیعبدون‘‘ میں تطبیق دیتے ہوئے حضرت شیخ الاسلام قدس سرہ فرماتے ہیں:

پس اس حدیث شریف کو ایسی سمجھنا چاہیے جیسے آیہ شریفہ’’ وما خلقت الجن والانس الا لیعبدون‘‘ یعنی نہیں پیدا کیا میں نے جن وانس کو مگر تا کہ میری عبادت کریں اور ایک تفسیرمیں ’’ تا کہ پہچانیں مجھ کو‘‘ اب یہاں ایک دوسرا شبہ یہ پیدا ہوا کہ اس آیہ شریفہ سے معلوم ہوا کہ جن وانس کی تخلیق عبادت یا معرفت کے لئے ہے اور حدیث ابن عباسؓ سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت ﷺ کے فضائل پر واقف کرانے کے لئے جواب اسکا یہ ہے کہ ضرور نہیں کہ ہر کام میں ایک ہی مقصود ہوا کرے ادنی عقلمند کے ایک ایک کام میں کتنے اغراض ہوا کرتے ہیں چہ جائے کہ خدائے تعالی کا کام اور وہ بھی اتنا بڑا جو آفرنیش عالم ہے اسمیں صرف ایک ہی مقصود رہنا کیا ضرور دیکھ لیجئے عناصر اربعہ سے کتنے کام لئے جاتے ہیں کہ اگر غور کیا جائے تو عقل حیران ہو جائے، کیا تخلیق کے وقت یہ سب اغراض ومنافع پیش نظر نہ ہونگے، پھر اگرآفرنیش ثقلین سے دونوں مقصود ہوں تو کیا قباحت لازم آئے گی، بلکہ ثقلین اگر باحسن وجوہ عبادت کریں اور تقرب الہی انہیں حاصل ہو جائے تو حضرتﷺ کا مرتبہ باحسن وجوہ سمجھ لیں گے، ہاں جن وانس کی نسبت اتنا لازم آسکتا ہے کہ ایک قصد اولی ہو اور ایک قصد ثانوی اور ممکن ہے دونوں اولی ہوں، اگر کہا جائے کہ جب مقصود یہ تھا تو کفار نے پھر تصدیق کیوں نہ کی، سو جواب اسکا یہ ہے کہ یہی اعتراض بعض لوگ آیہ شریفہ پر کرتے ہیں کہ باوجود یکہ تخلیق عبادت کے لئے ہے پھر کفار عبادت کیوں نہیں کرتے، جو جواب اس کا دیا جاتاوہی جواب یہاں بھی ہوگا، حالانکہ کفار کا حضرتﷺ کو جاننا خود قرآن  شریف سے بھی ثابت ہوچکا، اگر چہ مناسب اس موقع کے اور احادیث ومباحث ہیں مگر بخوف تطویل اختصار کیا گیا ہے۔(انوار احمدی ص ۱۸)

٭٭٭