Tajweed

علم تجوید ضرورت

علم تجوید کا سیکھنا فرض کفایہ ہے اور اس پر عمل کرنا فرضِ عین ہے۔ جو شخص باوجود قدرت رکھنے کے نہ سیکھے وہ یقینا گناہ گار ہے، اور شدید عذاب کا مستحق ہے۔

اس علم کی فرضیت قرآن مجید اور احادیث شریفہ دونوں سے ثابت ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد’’وَرَتِّلِ الْقُرْآنَ تَرْتِیلْاً‘‘ (سورئہ مزمل پ ۲۹) ترجمہ: اور پڑھ قرآن کو صاف صاف روشن۔ اس آیت میں ترتیل سے تجوید مراد ہے۔ ’’اَلَّذِیْنَ اٰتیْنٰھُمُ الْکِتَابَ یَتْلُوْنَہٗ حَقَّ تِلَاوَتِہْ‘‘ (سورۃ بقرہ) ترجمہ: جن لوگوں کو ہم نے قرآن دیا وہ اسکو پڑھتے رہتے ہیں جیسا کہ اسکو پڑھنے کا حق ہے۔ یعنی صاف صاف صحیح عبارت کے موافق تاکہ معنی ومطلب درست رہے۔

حضور اکرمﷺ کا ارشاد’’ عن عثمان رضی اللہ عنہ قال قال رسول اللہﷺ خیرکم من تعلم القراٰن وعلمہ‘‘ (بخاری شریف) ترجمہ: تم میں بہتر وہ شخص ہے جس نے قرآن سیکھا اور سکھایا۔ ونیز ترہیبا ارشاد فرمایا: ’’ رب تالی القرآن یلعنہ‘‘ ترجمہ: یعنی بہت سے قرآن پڑھنے والے ایسے ہیں کہ قرآن مجید ان پر لعنت کرتا ہے۔ کیونکہ وہ اصول تلاوت کے خلاف پڑھتے ہیں۔

امام جزری کا قول ؎

لأنہ بہ الا لہ انزلا                                                                       وھکذا منہ إالینا وصلا

حق تعالیٰ نے قرآن مجید کو تجوید کے ساتھ نازل کیا اور ایسا ہی ہمارے پاس پہنچا۔

اسلئے اسکے خلاف تلاوت کرنا موجب غضب الہٰی ہے۔ انہیں اصول تلاوت کا نام تجوید ہے۔

تجوید کی تعریف: ہر حرف کو اسکے مخرج سے اس کی صفات لازمہ وعارضہ کے قواعد کی رعایت رکھتے ہوئے اچھے طریقہ سے پڑھنا۔

حکم: ہر مسلمان عاقل وبالغ پر تجوید کے ساتھ قرآن مجید پڑھنا واجب لازم ہے۔

غرض: علم تجوید کے سیکھنے کی غرض وغایت یہ ہے کہ مومن قرآن پاک کی تلاوت میں غلطی سے بچکر اسکو صحت درستی سے ادا کرکے سعادت دارین حاصل کرے۔

موضوع: علم تجوید کا موضوع عربی کے حروف تہجی ہیں۔

علم تجوید عربی زبان میں اولین اہمیت کا علم ہے، اس کا تعلق صوتیات سے ہے، یہ علم ہجاء کی شاخ ہے، عربی زبان جملہ چھ (۶) علوم پر مشتمل ہے

(۱) علم ہجاء (۲)علم لغت (۳) علم صرف (۴) علم نحو (۵) علم بلا غت (۶) علم عروض (شاعری)۔

علم ہجاء میں عربی زبان کے حروف سے بحث کی جاتی ہے اور عربی زبان کے جملہ حروف (۲۹) ہیں اسی کی ایک شاخ علم تجوید ہے اس میں حروف کے نکلنے کے مقامات اور ان کی ادائی کی کیفیت سے بحث ہوتی ہے، حرف کے نکلنے کے مقام کو مخرج کہتے ہیں اور اسکی جمع مخارج ہے، اور حرف کی ادائی کی کیفیت کو صفت کہتے ہیں صفت کی جمع صفات ہے، انتیس (۲۹) حروف کے جملہ سترہ (۱۷) مخارج ہیں اور صفات بھی سترہ (۱۷) ہیں۔

بعض دفعہ ایک مخرج سے دو دو تین تین حروف نکلتے ہیں۔ یہ سترہ (۱۷) مخارج پانچ (۵) حصوں میں تقسیم ہیں وہ حصہ جہاں مخارج بنتے ہیںاسکو موضع کہتے ہیں ۔

۱۔ پہلا موضع جوفی ہے، اس میں ایک مخرج بنتا ہے۔

۲۔ دوسرا موضع حلقی ہے اس میں تین(۳) مخارج بنتے ہیں۔

۳۔ تیسرا موضع لسانی ہے اس میں دس (۱۰) مخارج بنتے ہیں۔

۴۔ چوتھا موضع شفوی ہے اس میں دو (۲) مخارج بنتے ہیں۔

۵۔ پانچواں موضع خیشومی ہے اس میں ایک (۱) مخرج بنتا ہے۔

اور صفات بھی سترہ (۱۷) ہیں اسکی دو قسمیں ہیں (۱) صفات اضدادیہ، یہ دس ہیں ان میں پانچ پانچ کی ضد ہیں، اسکے علاوہ صفات غیر لازمہ ہیں اور وہ صرف خاص مواقع پر ہی ادا ہوتے ہیں۔

صفات غیر لازمہ میں غنہ، ادغام، اخفاء، قلب، اور ترقیق وتفخیم ہیں۔ صفات لازمہ کی وجہ سے مشابہ آواز کے حروف میں فرق کیا جاتاہے، یہ صفات ہر حالت میں حرف کے ساتھ لازم رہتے ہیں۔ صفات غیر لازمہ کی وجہ سے حسن وجمال پیدا ہوتا ہے جو کچھ بیان کیا گیا اسکا خلاصہ درج ذیل ہے۔

۱۔ عربی زبان کے جملہ حروف انتیس (۲۹) ہیں۔

۲۔ حروف کے جملہ مواضع پانچ (۵) ہیں۔

۳۔ حروف کے جملہ مخارج سترہ (۱۷) ہیں۔

۴۔ حروف کے جملہ صفات اضدادیہ دس (۱۰) ہیں پانچ پانچ کی ضد ہیں۔

۵۔ جملہ صفات غیر اضدادیہ سترہ (۱۷)ہیں۔

۶۔ صفات غیرلازمہ پانچ (۵) ہیں۔

٭٭٭