masjid-e-nabavi

حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی مبارک زندگانی

حضرت ابوھریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے انہوں نے کہا اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے گھر والے مسلسل تین روز گہیوں کی روٹی سے شکم سیر نہیں ہوئے۔(احمد ۔ بخاری ۔ مسلم ۔ ترمذی)

سماک بن حرب سے مروی ہے کہ وہ نعمان بن بشر رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے سنے کہ کیا تم کھانے پینے میں اپنی خواہش پر نہیں ہو یقینا میں تمھارے نبی کو دیکھا وہ اتنے مروی کھجوریں بھی نہیں پاتے جن سے اپنا پیٹ بھریں۔(مسلم)

 

حضور کا تناول اور نوش فرمانا:

حضرت ابو جحیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے قریب ایک شخص سے فرمائے میں ٹیک لگا کر نہیں کھاتا۔ یا فرمائے اس حال میں جب میں ٹیک لگایا ہوا ہوں۔(بخاری ۔ احمد ۔ ابوداؤد ۔ ترمذی ۔ ابن ماجہ ۔ ابن سعد)

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے انہوں نے کہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب کھانا تناول فرماتے تناول کے بعد اپنی تین انگلیوں کو زبان سے صاف کرتے۔ (ترمذی)

حضرت عمر بن شعیب سے مروی ہے وہ اپنے والد اور دادا سے روایت کرتے ہیں انہوں نے کہا :میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو بحالت قیام اور بیٹھے ہوئے نوش فرماتے دیکھا(احمد ۔ ترمذی)

فائدہ : علماء ذکر فرماتے ہیں کہ بیٹھ کر پینا زیادہ بہتر ہے۔

انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب نوش فرماتے تو تین مرتبہ سانس لیتے اور یہ فرماتے کہ اس میں خوب سیری ہے اور پیاس کا بجھنا ہے۔(بخاری ۔ مسلم ۔ ترمذی)

علماء فرماتے ہیں کہ حدیث سے مقصود یہ ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم برتن کے باہر سانس لیا کرتے تھے۔

عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنھما سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک شخص ڈکار لیا پس آپ نے اس سے فرمایا۔ ہم سے اپنی آواز کو روکو کیونکہ دنیا میں زیادہ شکم سیر ہونے والا بروز قیامت دراز بھوک میں رہیگا۔(ترمذی ۔ ابن ماجہ)

 

آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا لباس :

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنھا سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:تم پر سفید کپڑے لازم ہے چاہئے کہ تمھارے باحیات لوگ اسے پہننے اسی میں تم اپنے مردوں کو دفناؤ کیونکہ وہ تمہارے کپڑوں میں سب سے بہترین ہے۔(ترمذی)

حضرت ابوھریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب قمیص زیب تن فرماتے تو دائیں طرف سے آغاز فرماتے۔(ترمذی ۔ نسائی)

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے وہ کہتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب کوئی نیا کپڑا زیب تن فرماتے تو اس کا نام لیتے۔ جیسے عمامہ یا قمیص یا چادر پھر فرماتے ۔ اللہم لک الحمد کما کسوتنہ اسئلک خیرہ و خیر ما صنع لہ و اعوذ بک من شر و شر ما صنع لہ۔ ترجمہ: اے اللہ تیرا شکر ہے جیسا کہ تو نے مجھے پہنایا میں تجھ سے اس کی بھلائی اور جس مقصد کے لئے یہ بنایا گیا ہے اس کی بھلائی مانگتا ہوں اور میں اس کے شر سے اور جس مقصد کے لئے یہ بنایا گیا ہے اس کے شر سے تیری پناہ چاہتا ہوں۔ (ترمذی، ابودائود)

 

آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا چلنا:

حضرت ابوھریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے وہ کہتے ہیں کہ میں چلنے میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ تیز کسی کو نہیں دیکھا گویا کہ زمین آپ کیلئے سمیٹ دی گئی ہو۔ جب ہم آپ کی معیت میں چلتے تو ہم اپنے آپ کو تھکا دیتے جب کہ آپ اپنی عام حالت پر ہوتے۔

اور حضرت علی کرم اللہ وجہ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی توصیف بیان کئے تو کہے کہ جب تشریف لے چلتے تو کچھ جھک کر چلتے گویا کہ بلندی سے اتررہے ہیں۔(ترمذی فی الشمائل)

 

آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نشست اور ٹیک لگانا:

حضرت قیلہ بنت مخرمۃ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو (دیکھی جبکہ اپنے زانوں کو پیٹ سے ملائے ہوئے دونوں پیروں کو کھڑا کئے ہوئے اپنی سرین کے بل تشریف فرما تھے۔) قرفصاء کی نشست بیٹھے ہوئے دیکھا۔(الادب المفرد)

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب بیٹھتے تو اپنے دونوں ہاتھوں سے احتباء فرماتے یعنی کپڑے کے ذریعہ پیٹھ کے ساتھ اپنے دونوں پیروں کو پیٹ سے ملا دیتے۔(ترمذی فی الشمائل ۔ ابوداؤد)

حضرت حنظلہ بن خذیم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ کو چار زانو بیٹھے دیکھا۔(الادب المفرد)دارمی ۔ ترمذی ۔ ابوعوانہ اور ابن حبان ۔ ابن سعد اور ابن عدی نے اس کو صحیح قرار دیا۔

حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا تو آپ کو اپنے بائیں پہلو کے بل ایک تکیہ پر ٹیک لگائے ہوئے دیکھا۔

 

آپؐ کا آرام فرمانا:

حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب بستر پر تشریف لے جاتے تو اپنی دائیں ہتیلی کو دائیں رخسار پر رکھتے اور فرماتے۔ رب قنی عذابک یوم تبعت عبادک ۔ ترجمہ: اے میرے رب روز قیامت مجھے اپنے عذاب سے محفوظ رکھ۔(ترمذی فی الشمائل)

حضرت عائشہ رضی اللہ عنھا سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ وسلم جب سونے کا ارادہ فرماتے تو وضوء فرماتے جس طرح نماز کیلئے وضوء فرماتے۔

اور فرماتی ہیں،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب ہر رات اپنے بستر پر تشریف لاتے تو اپنی دونوں ہتھیلیوں کو دعاء کی طرح ملا کر ان میں دم فرماتے اور ان میں قل ھو اللہ احد، قل اعوذ برب الفلق، قل اعوذ برب الناس پڑھتے پھر دونوں ہتھیلیوں کو جہاں تکممکن ہو اپنے جسم پر پھیر لیتے۔ آغاز سرمبارک اور رخ انور سے فرماتے وہ تین دفعہ فرماتے۔(ترمذی فی الشمائل)

حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں ایک شخص کے پاس سے گزرے جو چہرے کے بل اوندھا لیٹا ہوا تھا۔ تو آپ نے اسے اپنے پیر سے مارا اور فرمایا جھمنی نیند سے جاگ۔

 

(تطیبہ )آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا خوشبو استعمال فرمانا:

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیلئے ایک (عطردان ) عطر کی ڈبیہ تھی جس سے آپ خوشبو استعمال فرماتے۔(ترمذی)

ان ہی سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خوشبو رد نہیں فرماتے۔(بخاری ۔ نسائی)

حضرت ابوھریرہ رضی اللہ عنہ مروی ہے وہ کہتے ہیں کہ ،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مردوں کا عطر وہ ہے جس کی خوشبو ظاہر اور رنگ پوشیدہ ہو اور عورتوں کا عطر جس کا رنگ ظاہر ہو اور خوشبو پوشیدہ رہے۔(ترمذی فی الشمائل)

 

تنظفہ و تجملہ:

حضرت سعد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ بے شک اللہ تعالیٰ معطر ہے اور خوشبو پسند فرماتا ہے اور پاک ہے پاکی کو پسند فرماتا ہے کریم ہے کرم کو پسند فرماتا ہے سخی ہے سخاوت پسند فرماتا ہے پس تم اپنے ۔۔۔۔۔۔۔۔ کی صفائی کرو اور تم یھود سے مشابہت مت اختیار کرو۔(ترمذی)

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا کہ میں کسی ریشمی اور قیمتی کپڑے کو نہیں مس کیا جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہتھیلی سے زیادہ نرم و نازک ہو اور نہ کبھی آپ کی خوشبو سے زیادہ خوشبو سونگھا۔

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنھا سے روایت ہے وہ فرمائے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب بھی آرام فرماتے تو مسواک آپ کے پاس ہوتا پس نیند سے بیدار ہوتے تو مسواک سے ابتداء فرماتے۔     (احمد ۔ ابو یعلی)

حضرت عبداللہ بن بسر رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں آپ نے ارشاد فرمایا اپنے ناخن تراشواور ان کو دفن کرو۔

اپنے انگلیوں کے جوڑوں کے ظاہری گرہوں کی اچھی طرح صفائی کرو دانتوں میں موجودہ شئی کو اچھی طرف صاف کرو اور مسواک کرو۔ منہ کی بدبو اور دانتوں کی پلساہٹ کے ساتھ مت آؤ۔

حضرت عائشہ رضی اللہ عنھا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک روز اپنے بھائیوں کے ہاں تشریف لے گئے تو آپ نے ایک پانی کے کوزے میں اپنے زلف مبارک اور ہیئت پر نظر فرمائے۔ پھر کہیبے شک اللہ خوبصورت ہے اور خوبصورتی کو پسند فرماتا ہے جب تم میں کوئی اپنے بھائیوں کی طرف جائے تو چاہئے کہ وہ اچھی طرح اپنے آپ میں تیار ہو۔

 

آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا بالوں میں کنگا کرناآپؐ کا آئینہ میں دیکھنا:

حضرت عائشہ رضی اللہ عنھا سے روایت ہے وہ فرماتی ہیں ،پانچ چیزیں جنھیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خواہ سفر ہو یا حضر نہیں چھوڑتے ۔

آئینہ ، سرمہ دانی ، کنگا ، تیل ، مسواک۔(طبرانی ۔ بیھقی ۔ ترمذی فی الشمائل)

اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کثرت سے سر پر تیل استعمال فرماتے ریش مبارک میںکنگا فرماتے۔

حسن بن ضحاک حضرت عائشہ رضی اللہ عنھا سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب آئینہ دیکھتے تو فرماتے

اللھم حسنت خلقی فحَسِّنْ خُلُقی واَوْسِعْ علَّی فِیْ رِزْقِی۔

ترجمہ: اے اللہ تونے میری خلقت حسین بنائی پس میرے اخلاق اچھے فرمااور مجھ پر میرے رزق میں کشادگی فرما۔ سبل الھدی والرشاد فی سیرۃ خیر العباد للامام الصالحین۔

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنھما سے مروی ہے انہوں نے کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بچہ کو دیکھا جس کے سر کے بعض بال کاٹے گئے اور بعض چھوڑ دیئے گئے تو ان کو حضور نے اس عمل سے روک دیا اور فرمایا مکمل حلق بناؤ یا اسے مکمل چھوڑ دو۔(ابوداؤد ۔ بخاری ۔ مسلم)

حضرت علی کرم اللہ وجہ سے روایت ہے آپ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عورت کو اپنا سر منڈھانے سے منع فرمائے۔(نسائی)

 

آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا خضاب استعمال فرمانا:

حضرت عثمان بن عبداللہ بن موھب سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میں حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنھا کے پاس حاضر ہوا تو انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے گیسوؤں میں سے بعض خضاب شدہ گیسوئے مبارک ہمیں بتائیں۔(بخاری)

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بالوں کو خضاب کیا ہوا دیکھا۔

حماد کہتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن محمد بن عقیل نے انہیں یہ بات بتلائی کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بالوں کو حضرت انس بن مالکؓ کے پاس دیکھے اس حال میں کہ وہ خضاب کئے ہوئے تھے۔(ترمذی فی الشمائل)

 

آپؐ کا سرمہ استعمال فرمانا:

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنھما سے روایت ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سونے سے قبل اٹھ کر سرمہ استعمال فرمایا کرتے ہر آنکھ میں تین مرتبہ۔(ترمذی فی الشمائل)

یزید بن ھارون فرماتے ہیں کہ بے شک نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے ایک سرمہ دانی تھی جس سے آپ سونے سے پہلے ہر آنکھ میں تین دفعہ سرمہ لگاتے۔(ترمذی فی شمائل)

 

قضاء حاجت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ادب:

حضرت عبد الرحمن بن ابو قراد رضی اللہ عنہ عنھم سے مروی ہے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب فضاء حاجت کیلئے تشریف لے جاتے تو اتنی دوری اختیار فرماتے کہ کوئی آپ کو نہیںدیکھے۔(ابو داؤد ۔ ترمذی ۔ نسائی)

حضرت انس رضی عنہ سے روایت ہے وہ فرمائے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیت الخلاء میں داخل ہوتے وقت یہ فرماتے اللھم انی اعوذبک من الخبث والخبائث

٭٭٭