nahoo

عربی زبان کے نحوی قواعد

عربی زبان کے حروف کو حروف ہجا یا حروف تہجی کہتے ہیں جو تعداد  میں الف سے ’ی‘ تک29 ہیں ان حروف کی صحیح أدائیگی اور تلفظ کو ابتدائی قرآنی قواعد کی کتا بوں میں تفصیل سے دیکھا جا سکتا ہے ان حروف ہجا کی اچھی طرح أدائی سیکھنے کے بعداب ہم کو ألفاظ اور اسکے معانی کو اور ان ألفاظ سے بننے والے جملے اورجملوں سے مضمون بنانے کا طریقہ سمجھنا چاہیئے تاکہ تلاوت قرآن کے ساتھ ساتھ قرآن کو سمجھنا بھی ہما رے لیئے حاصل ہو جائے: جس فن میں یہ طریقہ معلوم ہو تا ہے اُس’ فن ‘کو اصطلاح میں ’فن نحو ‘ یا علم نحو ‘ کہا جا تا ہے :

علم نحو کی تعریف :علم نحو وہ علم ہے جس میں ألفاظ (اسم ،فعل ، حرف)کو پہچاننے کے طریقے اور اعراب (زبر ،زیر پیش)آنے اور ان کے وجوہات معلوم ہو تے ہیں نیز جملوں سے مضمون بنانے کے قواعد جا نے جاتے ہیں۔

نحو کی وجہ تسمیہ: ایک مرتبہ أبو الاسد دویلی نے عربی زبان  کے چند قواعد ترتیب دیکر بطور اصلاح  :حضرت علی رضی اللہ عنہ کی خدمت میں پیش کیا حضرت علی رضی اللہ عنہ نے انکی ترتیب کی تصدیق کر تے ہو فر ما یا ’’مَا أحْسَنَ ھٰذا النَّحْوُ الَّذِیْ قَدْ نَحَوْتَ ‘‘(یعنی کیا بہترین طریقہ ہے جو تم نے اختیار کیا )اسی وقت سے عربی زبان کے قواعد کے مجموعے کو ’’علم نحو‘‘ کہا جانے لگا ۔

موضوع : اس علم کا موضوع کلمہ اور کلام ہے، یعنی أولاً تنہا لفظ یعنی مفرد یا کلمہ  اور پھر کلام یعنی کلمات کی ترکیب زیر بحث ہو تے ہیں :

فوائد :

(الف )علم نحو کو جا ننے سے ألفاظ سے متعلق یہ سمجھ میں آتا ہیکہ وہ اسم ہے، فعل ہے یا حرف

(ب ) یہ معلوم ہو تا ہے کہ کو نسے لفظ پر کیا حرکت ہو نا چا ہیئے اورعامل ( حرکت دینے والا لفظ) کونسا لفظ ہے ،اورمعمول (عمل کو قبول کرنے والا) کونسا لفظ ہے

(ج)یہ معلو م ہو تا ہے کو نسے لفظ پر تینوں حرکا ت آتے ہیں اور کو نسے لفظ پر نہیں آتے یعنی معر ب کونسا لفظ ہے (یعنی کس لفظ کی حرکات بدلتی رہتی ہیں )اور مبنی کونسا لفظ ہے  (یعنی کس لفظ کی حرکات نہیں بدلتیں )۔

 

٭٭٭