mazameen

تربیت اولاد احادیث شریفہ کی روشنی میں

الحمد للہ الذی وھب لنا الازواج والذریۃ والصلوٰۃ والسلام علی من نصح الامۃ وادی الامانۃ وبلغ الرسالۃ وعلی اٰلہ الذین قاموا بھدیہ وسلکوا بمسلکہ،

                                                امابعد:

بچے قوم کا مستقبل ہوتے ہیں انکی جیسی پرورش وپرداخت ہوگی مستقبل بھی ویساہی روشن وتابناک ہوگا ہر قوم ومذھب میں تربیت اولاد کی اہمیت ہے مگراسلام میں اسکی اہمیت اس قدر زیادہ ہے کہ اسکو فرض قرار دیا ہے چنانچہ اللہ تبارک وتعالیٰ کا ارشاد ہے ’’یا ایہا الذین اٰمنوا قو انفسکم و اہلیکم نارا‘‘ (سورۃ تحریم)

اے ایمان والو! اپنے آپ کو اور اپنے اہل خانہ کو دوزخ کی آگ سے بچاؤں۔ اس کے بعد پھر فرمایا ’’والذین اٰمنوا واتبعتہم ذریتہم بایمان الحقنابہم ذریتہم وما التنہم من عملہم من شیء کل امری بما کسب رہین‘‘۔ (سورۃ الطور)

اور جو لوگ ایمان لائے اور ان کی اولاد ایمان لائی ان کی پیروی کی ہم ان کی اولاد کو بھی درجات جنت میں ان کیساتھ ملائیں گے خواہ ان کے اپنے عمل اس درجہ کے بھی نہ ہوں اور ہم ان (صالح آباء) کے ثواب میں کمی نہیں کریں گے۔ ہر شخص اپنے عمل کی جزاء و سزا میں … رہے گا۔

بچوں کی تربیت سے متعلق معلم انسانیت حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے، جس شخص کے ہاں بچہ تولد ہو اس کو چاہئے کہ وہ اس کا اچھا نام رکھے اور اس کی اچھی تربیت کرے، اسلام والدین پر یہ ذمہ داری عائد کرتا ہے کہ وہ اپنی اولاد کی بہترین تربیت کریں یہ والدین کی تربیت کا ہی ثمرہ ہے جس سے اولاد کی دنیا و آخرت بنتی یا بگڑتی ہے جس طرح جڑ کے بغیر پھل، پھول برگ و بار کا کوئی تصور نہیں اسی طرح اچھے والدین کی تربیت کے بغیر صالح اولاد کا تصور نہیں کیا جاسکتا۔ یہ اسی وقت پایہ تکمیل کو پہنچتا ہے جبکہ ماں باپ خود اسلامی آداب کا نمونہ ہوں اور اولاد کی زندگی کے مختلف مراحل میں اسلام کی روح پیدا کریں، گھر کا ماحول برائیوں سے پاک ہو تاکہ بچہ اپنی فطرت کے مطابق بڑوں کی تقلید کرسکے اور اسلام کا نقش ان کے دل میں قائم ہو۔ آج کل ٹی وی سنیما بینی نے مسلم نوجوانوں اور مرد و خواتین کی آنکھوں سے عفت و حیاء کا مقدس سرمایہ چھین لیا ہے جس کی حفاظت اکابرین کے پاس حرز جاں سے زیادہ عزیز تھی۔جہاں ماں کی گود بچے کی اولین درسگاہ ہے جہاں انسانی شخصیت کی بنیاد بنتی ہے وہیں شعور کی پختگی زاویہ نگاہ کی وسعت اور عملی زندگی میں کامیابی کے لائحہ عمل کے لئے والد کی مسلسل رہنمائی اور تربیت کی ضرورت ہوتی ہے۔ ولادت کے ساتھ ہی سے تربیت کا آغاز ہوجاتا ہے بلکہ بعض محققین تو قبل ولادت سے تربیت کے قائل ہیں،چنانچہ اسی لئے تو سب سے پہلے بچے کے کان میں اذان کے مقدس کلمات کہے جاتے ہیں۔

 

بچے کے کان میں اذان دینا:

بچے کے کان میں اذان کہنے کا اسلامی طریقہ یہ ہے کہ اس کے دائیں کان میں اذان اور بائیں کان میں اقامت کہی جائے چنانچہ حضرت ابو رافع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے عن ابی رافع قال رایت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ریؤذن فی اذن الحسن بن علی حین ولدت فاطمۃ بالصلوٰۃ (رواہ ابوداود)حضرت رافع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حسن بن علی کے کان میں اذان کہتے ہوئے سنا بیہقی کی روایت میں کچھ تبدیلی کے ساتھ مروی ہے اور اس میں بچے کے کان میں اذان و اقامت کہنے سے وہ بچہ ام الصبیان بیماری سے محفوظ ہو جاتا ہے۔

 

بچے کی پیدائش پر تحنیک:

بچے کی پیدائش پر تحنیک کرنا حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے چنانچہ ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے عن عائشۃ ان ر سول اللّٰہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ن یوتی بالصبیان فیبّرک علیہم و یحنکہم (رواہ مسلم) حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بچے لائے جاتے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے لئے برکت کی دعا فرماتے اور ان کی تحنیک فرماتے۔

 

تحنیک:

کجھور کو چبا کر بچے کی تالو میں لگانا اور برکت کی دعا کرنے کو تحنیک کہتے ہیں۔

 

عقیقہ:

بچے کی ولادت کے ساتویں دن اس کا حلق کر دینا چاہئے اور بالوں کے وزن کے برابر چاندی غرباء و مساکین میں صدقہ کردینا چاہئے ایسا کرنا حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے، سر کے بال مونڈنے میں صحت و طب کے لحاظ سے یہ فائدہ ہوتا ہے کہ بچے کو قوت حاصل ہوتی ہے مسامات کھلتے ہیں اور ساتھ ہی اس کی نگاہ، سماعت اور قوت شامہ کو تقویت حاصل ہوتی ہے۔ چاندی صدقہ کردینے سے معاشرہ میں باہمی اخوت کا جذبہ پیدا ہوتا ہے اور اس سے حاجت مند کی ضرورت پوری ہوتی ہے اس طرح معاشرہ میں صلہ رحمی اور ترمم کی فضاء ہموار ہوتی ہے۔ پیدائش کے بعدبھی چند امور ہیں جو احادیث شریفہ میں وارد ہیں، مثلاً اچھا نام رکھنا ، ختنہ کروانا اور بچوں بچیوں میں عدل و انصاف کا پہلو قائم رکھنا وغیرہ۔ بچہ ایک ہفتہ کا ہو جائے تو اس کا نام رکھنا، عقیقہ کرنا، چھ سال کا ہو جائے تو آداب اور تعلیم سے آراستہ کرنا۔

لڑکوں کے مقابلہ میں لڑکیوں کی تعلیم و تربیت دو وجوہ سے زیادہ ضروری معلوم ہوتی ہے ایک وہ قدرے مجبور ہوتی ہیں دوسرے آئندہ زندگی میں بچوں کی تعلیم و تربیت کی ذمہ داری انہی پر ہوتی ہے اس کی تفصیل اس حدیث مبارک سے ہوتی ہے جو ’’الادب المفرد‘‘ میں مذکور ہے ’’من کانت لہا ابنۃ فادبہا فاحسن تادیبہا و علمہا فاحسن تعلیمہا فاوسع علیہا من نعم اللہ اسبغ علیہ کانت منعۃ وسترا من النار‘‘ جس کسی کو کوئی لڑکی ہو اس نے اسے اچھی سے اچھی تربیت دی اور ادب و تمیز سکھائی اور پھر اچھی سے اچھی تعلیم دی پھر اللہ نے اس پر جو نعمتیں دی ہے اپنی وسعت کے مطابق اس پر خوشی سے خرچ کیا تو وہ اس کے لئے دوزخ سے پردہ بن جائے گی۔

ایک اچھے والد کا اپنی اولاد کے لیئے بہترعطیہ اچھی تعلیم و تربیت ہے جیسا کہ ترمذی کی روایت ہے ’’ما نحل والد ولدہ من نحل افضل من ادب حسن‘‘ (ترمذی)

کسی والد کا اپنی اولاد کے لئے سب سے بہتر عطیہ ان کی اچھی تعلیم و تربیت ہے اسی سلسلہ کی ایک اور حدیث ’’اکرموا اولادکم واحسنوا أدبہم‘‘ (ابن ماجہ)

اسلام نے اپنی اولاد کے ساتھ رحم وکرم کا معاملہ کرنے اور ان کی بہتر تربیت اور تعلیم کا حکم دیا ہے۔ چنانچہ ارشاد ہے، قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مروا اولادکم بالصلوٰۃ وہم ابناء سبع سنین واضربوہم علیہا و ہم ابناء عشر و فرقوا بینہم فی المضاجع (رواہ ابودائود)ر سول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے تم اپنے بچوں کو نماز کا حکم دو جبکہ وہ سات سال کی عمر کو پہنچ جائیں اور جب دس سال کی عمر کے ہو جائے اور نماز نہ پڑھیں تو ان کو مارو اور ان کے اپنے بستر الگ کرکہ سلاؤں۔

تربیت اولاد میں یہ بھی داخل ہے کہ بچوں کے ساتھ نہایت شفقت و محبت کا برتائو کیا جائے جیسا کہ مروی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ حضرت حسن کو بوسہ لیا اقرع بن حابس ایک صحابی تھے انہوں نے کہا میرے دس بچے ہیں میں نے کسی کو بوسہ نہیں لیا۔ تو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی طرف دیکھا اور ارشاد فرمایا من لا یرحم لا یرحم جو رحم نہیں کرتا اس پر رحم نہیں کیا جاتا۔ بخاری؍ بروایت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اسی طرح ’’ادبوا اولادکم علی ثلاث خصال حب نبیکم و حب اہل بیتہ القرآن فان حملۃ القرآن فی ظل اللہ یوم الاظل الا ظلہ مع انبیاء ہ و اصفیائہ     بروایت علی بن ابی طالبؓ (جامع صغیر للسیوطی)

اپنی اولاد کو تین باتوں،کی تربیت کرو اپنے نبی سے محبت اور ان کی اہل بیت سے محبت اور قرآن مجید کی تلاوت۔

بچوں کو یہاں سے زیور تعلیم سے آراستہ کرنے کا سنہری دور چند سطور میں یہاں بیان کیا جاتا ہے

 

عہد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں بچوں کا تعلیمی سلسلہ:

اس جگہ یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا زمانہ نبوت اور عہد خلفاء راشدین ؓ میں بچوں کو ابتدائی تعلیم سے آراستہ و پیراستہ کیا جاتا تھا؟ اگر کیا جاتا تھا تو ابتدائی تعلیم کیا تھی؟ کیا اس زمانہ میں مدارس اور مکاتب موجود تھے؟ بالخصوص دنیائے اسلام کے دار الخلافہ مدینہ منورہ میں؟

تاریخی شواہد سے پتہ چلتا ہے کہ بچوں کو لکھنے کی تعلیم دینا مدینہ منورہ میں رائج تھا۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اچھا لکھنے والے صحابہؓ کو اس بات کی ترغیب دیا کرتے تھے کہ وہ دوسرے لوگوں کو لکھنا سکھائیں، بالخصوص بچوں کو۔ صحابہؓ اور صحابیاتؓ کی ایک معتدبہ مقدار لکھنے پڑھنے سے واقفیت رکھتی تھی۔ جن میں حضرت عبادۃ بن الصامتؓ اور حضرت شفاء بنت عبداللہؓ جنہوں نے ام المؤمنین حضرت حفصہؓ کو لکھنا سکھایا، وغیرہ اس مقام پر بہت سے صحابہؓ کے نام گنوائے جاسکتے ہیں۔جو خود تعلیم یا فتہ ہوتے تھے اور بچوں کو تعلیم دیا کرتے تھے۔

مسلمان بچوں کو لکھنے پڑھنے کی تعلیم دینے کاسلسلہ غزوہ بدر کے فوراً بعد شروع ہوا۔’’بدر کے بعض قیدی لکھنا جانتے تھے، اس وقت تک انصار میں اچھا لکھنے والے موجود نہیں تھے۔ جن قیدیوں کے پاس مال نہیں تھا ان سے یہ کہا گیا کہ وہ دس بچوں کو لکھنا سکھادیں تو انہیں آزاد کردیا جائیگا۔ حضرت زیدبن ثابتؓ اور بہت سے دیگر انصار بچوں نے اس زمانہ میں لکھنا سیکھا۔

اس کے بعد اہل مدینہ میں عربی لکھائی بہ کثرت رائج ہوئی حتی کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے کاتبین کی تعداد بیالیس(۴۲) تک پہنچ گئی۔

ابن قتیبہ اپنی کتاب’’المعارف‘‘ میں عرب کے نزدیک لکھنے پڑھنے کی اہمیت ذکرکرتے ہیں کہ عرب کے نزدیک لکھنے کا بہت بڑافائدہ سمجھاجاتاتھا۔ حضرت عکرمہ فرماتے ہیں کہ بدر کے قیدیوں کا فدیہ چارہزار تک پہنچ چکا تھا۔ حتی کہ بعض لوگوں کا فدیہ یہ مقررکیا کہ وہ لوگوں کو لکھنا سکھادیں کیونکہ عرب کے ہاں لکھائی کی بڑی قدرومنزلت تھی۔

عرب لوگ لکھائی کے فائدے کو بہت بڑافائدہ شمار کرتے تھے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ نے اپنے نبی کو ارشاد فرمایا:{ اِقْرَأوَرَبُّکَ الْاَکْرَمُ الَّذِیْ عَلَّمَ بِالْقَلَمِ عَلَّمَ الْاِنْسَانَ مَالَمْ یَعْلَمْ}(العلق:۳۔۵)

’’ائے پیغمبر آپ قرآن پڑھا کیجئے اور آپ کا رب بڑا کریم ہے جس نے قلم سے تعلیم دی انسان کو‘ ان چیزوں کی تعلیم دی جن کووہ نہ جانتا‘‘۔ اللہ تبارک وتعالیٰ نے ان آیات مبارکہ میں جیسے اپنے کرم کے متعلق ارشاد فرمایاہے۔ اسی طرح تعلیم بالقلم کاذکر بھی فرمایا ہے اور اسے اپنی عظیم نعمت کے طور پر پیش کیاہے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ نے قرآن مقدس میں قلم کی قسم کھائی ہے۔ ارشاد گرامی ہے:{نٓ۔ والقلمِ وَمَایَسْطُرُوْنَ} (القلم:۱) ’ن۔ قسم ہے قلم کی اور ان کے لکھنے والوں کی‘‘ قلم اور قلم کی تحریر دونوں کی قسم کھائی ہے۔کسی شاعر نے کیا خوب کہا ہے۔

ان الکتابۃ راس کل صناعۃ                                                                 وبھاتتم جوامع الاعمال

’’یقینا لکھائی ہر صنعت کی بنیاد ہے۔ اسی لکھائی سے تمام اعمال تکمیل کے مراحل سے گذر تے ہیں‘‘

رہی یہ بات کہ کیا عہد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں مدینہ منورہ میں کوئی مدرسہ یا فرد بشر ایسا تھا جس سے طلباء لکھائی سیکھتے تھے؟تو اس سلسلہ میں حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ فرماتے ہیں:’’میں اور زیدبن ثابتؓ جوچوٹی کے کاتبوں میں شمار ہوتے تھے‘ آنحضرتﷺکی زبان مبارک سے سترسورتیں سیکھیں۔ جب آنحضرت ﷺمدینہ منورہ میں تشریف لائے تو حضرت زیدبن ثابتؓ کی عمر مبارک گیارہ سال تھی۔ ابھی یہ بات گزر چکی ہے کہ انہوں نے لکھائی بدر کے قیدیوں سے سیکھی‘ شاید حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ کا اشارہ بھی اسی جانب ہو۔ جوقیدی فدیہ ادانہیں کرسکتے تھے ان کے ذمہ تھاکہ وہ دس بچوں کو لکھنا سکھادیں۔ یہ دس بچے اپنے قیدی استاذ کے پاس یقینا اتنا وقت تولگا تے ہونگے کہ لکھائی پڑہائی پر مکمل عبور حاصل کرسکیں۔لیکن اس زمانہ میں بچوں کی تعلیم کا منظم طریقہ یہ تھا کہ بچوں کوپہلے صرف لکھنا پڑھنا سکھایا جاتا تھا۔ بعد ازاں قرآن کریم کی تعلیم دی جاتی تھی۔ بچوں کی ابتدائی تعلیم کے متعلق علامہ ابن العربی اپنی کتاب احکام القرآن میں تحریر فرماتے ہیں کہ ابتدائی تعلیم کا طریقہ یہ ہے کہ بچہ جب شعور کی دہلیز پر قدم رکھے تو اسے مدرسہ بھیج دیں جہاں وہ صرف لکھنا سیکھے اورزبان عربی کی تعلیم حاصل کرے، بعد ازاں اسے قرآن کریم کی تعلیم دی جائے۔

ابن جبیر مشرقی ممالک میں بچوں کی تعلیم کا ایک عمدہ طریقہ تحریر فرماتے ہیں کہ مشرقی ممالک میں بچوں کو

ابتداء میں قرآن کریم کی تعلیم نہیں دیتے، بلکہ انہیں اشعار وغیرہ کے ذریعہ پہلے لکھنا پڑھنا سکھایا جاتاہے۔ اگر انہیں ابتداءمیں قرآن کریم کی لکھائی سکھائیں تو لڑکے قرآنی حروف مٹائیں گے جو بے ادبی تصور ہوگی۔ جب بچے لکھنے پڑھنے میں ماہر ہوجائیں تب انہیں قرآن کریم کی تعلیم دینی چاہئے تاکہ استاد اور طالب علم کی تمام ترتوجہ تحصیل قرآن کریم پرہوسکے۔

اس بات کا ذکر بھی ضروری ہے کہ فقہاء کرام مساجد میں لکھائی سیکھنے کو صحیح نہیں سمجھتے۔ حضرت امام مالکؒ سے جب یہ مسئلہ پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا میں اسے جائز نہیں سمجھتا کیو نکہ بچے نجاست سے محفوظ نہیں رہ سکتے۔کتب فقہ میں موجود ہے کہ بچوں کو مسجد میں تعلیم دینا جائز نہیں ہے کیونکہ حضورﷺ نے حکم فرمایا ہے کہ مسجد کو بچوں اورمجنونوں سے پاک رکھو۔ کیونکہ مسجد کی دیواروںپر سیاہی لگادیں گے نیز بچے نجاست سے بھی محفوظ نہیں رہتے۔ بچوں کی تعلیم کے لئے بازار میں کوئی مکان وغیرہ یا کوئی مستقل جگہ لینی چاہئے۔

بچہ جب لکھنا پڑھناسیکھ لے اور پھر مدرسہ وغیرہ میں قرآن کریم حفظ کرلے بعد ازاں اسے مسجد میں منتقل کرنا چاہئے تاکہ وہ علوم فقہ وحدیث میں مہارت حاصل کرسکے۔ موار دی اپنی کتاب’’نصیحۃ الملوک‘‘ میں بچوں کوعربی زبان کی تعلیم کی اہمیت دلاتے ہوئے فرماتے ہیں:’’جب بچہ تعلیم وتادیب کے قابل ہوجائے تو اسے قرآنِ کریم اور عربی زبان کی تعلیم دی جائے کیونکہ اسی زبان میں اللہ تعالیٰ نے قرآنِ مقدس کو نازل فرمایا‘ اسی لئے ملت اسلامیہ کے ہر فرد کے لئے ضروری ہے کہ عربی زبان کی تعلیم حاصل کرے ورنہ وہ دین سے جاہل اور ملت اسلامیہ کے اصولوں سے ناواقف رہے گا۔ انہیں مبارک اصولوں پر اسلام کے ابتدائی دور میں بچوں کو تعلیم دی جاتی تھی۔ بچے انہی اصولوں کو اپنا کراو جِ ثریا تک جاپہنچتے تھے اور اپنی ذکاوت وذہانت سے ایک عالم کو روشن کرتے تھے۔

تربیت اولاد ایک طویل مضمون ہے تنگی وقت کی بناء تمام اصول تربیت کامکمل طور پراحاطہ کرنا ممکن نہیں تاہم اس مضمون کوتمہیدی گفتگوخیال کیا جائے۔تفصیلات کو کسی دوسرے مناسب وقت پر پیش کیا جائیگا۔

 

٭٭٭