دکن میں علم حدیث کا ارتقاء اوراس کی نشر و اشاعت میں جامعہ نظامیہ و دائرۃ المعارف کی خدمات

ہندوستان کی سرزمین پر اسلام کا سورج عہد نبوت ہی میں طلوع ہو چکا تھا ،اس تابناک کرنیں اقطاع ہند پر پڑنے لگیں توحید ورسالت کی دعوت کے ساتھ سنت و حدیث کی تعلیم کے حلقے بھی یہاں قائم ہونے لگے ۔ بالخصوص دکن کے علاقے میں علوم حدیث کی تدریس ،تحفظ و فروغ کی کوششیں کی جانے لگیں، سلاطین دکن میں بہمنیوں بادشاہوں نے حدیث شریف کی تعلیم و تدریس کے مراکز قائم کئے ۔ معلمین کو گرانقدر وظائف مقرر کئے ۔سلاطین بہمنیہ میں سلطان کا اولین اعزاز پایا اس کا عہد حکومت 799 ہجری سے 899 ہجری تک رہا ۔ تاریخ فرشتہ میں سلطان محمود بہمنی کا حال یوں لکھا ہے۔وجہت محدثاںاخیار حضرت نبوی ﷺ در شہر یائے-کلاں وظائف مقرر کردہ در تعظیم ایشاں فی کو ئید ۔(نقش رسول نمبر جلد 6 ۔صفحہ نمبر 11ممحمد طفیل 1983ء) (نزہۃ الخواطر جلد 3 صفحہ نمبر 187)نیز حضرت گیسو دراز مشارق الانوار فارسی ترجمہ بھی کیا تھا جس کا نام ترجمان مشارق الانوار رکھا ےتھا۔

علم حدیث کے فروغ و تحفظ کی اس روئیت کو آصف جاہی سلاطین نے نہ صرف آگر بڑھایا بلکہ اپنی معراج پر پہنچا دیا ،علوم فن حدیث کی قدر دانی کی نئی تاریخ رقم کی اس فروغ کے لئے باب وا کئے۔آصف اول نوب میر قمرالدین علی خاں کا عہد حکومت زیادہ تر دفاعی مہموں اور تحفظ مملکت میں گذرا ۔نو زائدہ مملکت کے تحفظ کا اہم مرحلہ سامنے تھا ،یہ صورتحال بعد کے آصف جاہیوں کے لئے اتنی گمبھر نہ آئی ، آصف جاہ سادس کا دور آنے تک رلمی سرگرمیاں جارہی ہیں آصف جاہ سابع نے تخت پر بیٹھتے ہی گویا ان کی نشستوں میں جان سی آگئی انہوں نے تعلیمی ،تحقیقی ،لسانی ۔رفاعی  اداروں کا جال بچھا کر بغداد و قرطبہ کی تاریخ کو زندہ کر دیا مدرسہ شجاعیہ مدرسہ محبوبیہ دارالعلوم کے بعد انہوں جامعہ نظامیہ ،جامعہ عثمانیہ ،دارالترجمہ ،محکمہ صدارت العالیہ ،کتب خانہ آصفیہ ،دارالطبع سرکار عالی اور تصحیح اصطلاحات کے ذریعہ ایک نیا جہا علم وہنر آباد کیا۔ایک طرف محدث وقت علامہ خواجہ حسن الزماں فاطمی چشتی نظامی فخری سلیمانی حافظی رحمۃاللہ علیہ روضۃ الحدیث ‘،قائم کرکے گل ہائے حدیث نبوی جے ذریعہ اہل سنت کے شام جان کو حصر و معبر کر دیا الفقہ الاکبر عن اہل بیت الاطہر جیسا شاہکار علمی دنیا کو دیا صاحب نزہۃ الخواطر جلد ہشتم ص 108 مطبوعہ دائرۃ امعارف العثمانیہ میں رقم طراز ہیں ۔لہ مصنفات عدیدہ ،واشھر مصنفات الفقہ الاکبر فی علوم اہل البیت الاطہر ،اس سلسلہ کی انیس کتابوںں کے نام آپ نے درج فرمائے ہیں۔

دکن میں علم حدیث کی خدمت کا ایک نمایاں اور درخشاں نام حضرت الشیخ وحید الزماں کا ہے آپ کی علمی خدمات پر تاجدار آصفیہ نے وقارنواز جنگ کا خطاب عطا کیا تھا ۔حضرت الشیخ کی خدمات حدیث میں رفع الحاجہ شرح سنن ابن ماجہ ،تسہیل القاری شرح صحیح بخاری المعلم شرح صحیح مسلم ،ترجمہ بخاری شریف ،اصلاح الھدایہ فی فقہ الحدیث ،اشراق الابرار تخر یج نور الانوار ،احسن الفوائدتخریج شرح العقائد ،وحید الغات قاموس غریب الحدیث (8)جلد شامل ہیں۔

حضرت علامہ زماں خاں شہید رحمۃاللہ علیہ دکن کی حدیثی خدمات کا درجہ اعتبار واسناد کے حاصل ہیں ۔آپ کی تصانیف بھی احادیث کے انوار ملاحطہ کئے جا سکتے ہیں آپ کی تصنیف خیر المواعظ احادیث مصطفی کا بہترین گلدستہ ہے۔دکن کے علاقہ میں نور حدیث سے منور کرنے والے شخصیات میں فخر المحدثین ہےسیدنا عبد اللہ شاہ نقشبندی مجددی قادری رحمۃ اللہ علیہ کی شخصیت کو آج بھی تاجداری حاصل ہے زجاجۃ المصابیح ( 5 جلد ،2484 دو ہزار چارسو چوراسی  صفحات ،6634 چھ ہزار چھ سو چونتیس احادیث کا مجموعہ ) ایک جامع کا درجہ رکھتی ہے اس کتاب کی وجہ سے آپ کو محدث دکن سے یاد کیا جاتا ہے۔فقہ حنفی کا یہ وہ لازوال کارنامہ ہے جو احناف کا طرہ امتیاز اور اہل دکن کے لئے باعث فخر رہا ہے ۔بانی کتب جامعہ سعیدیہ حضرت مفتی محمد نائطی کی خدمات حدیث دکن کا اٹوٹ حصہ ہیں ، جن میں تشبیہ المبانی فی تخریج احادیث مکتوبات امام ربانی ، تخریج احادیث الاطراف ، تبت الحدیث النبوی شامل ہیں۔علامہ عبد اللہ للعماری کی تصنیف علم الحدیث دکن کی علمی خدمات کا نشان ہے۔اس کتاب میں مولانا مفتی عبد الطیف کی تصانیف شرح جامع ترمذی ، شرح تراجم ابواب الصحیح البخاری ،رسالہ اصول حدیث ،دکن کی دینی خدمات کا اٹوٹ حصہ ہیں ۔

عالمی محقق ڈاکٹر محمد حمید اللہ رحمۃ اللہ علیہ کی خدمات حدیث صحیفہ ھمام بن منبہ ،مقدمہ سنن سعید بن منصور ،سیرۃ ابن اسحاق نے عالمی سطحہ پر دکن کا مقام بلند کیا ۔حضرت مفتی سید احمد علی صوفی قادری کو ان کی حدیثی خدمات پر محدث فی الدکن کہا جاتا ہے رسالہ اربعین  تاریخی نام کنز پیغبری (1341ھ) مرشدی القاری شرح صحیح البخاری ،ارشادات الصوفیہ فی احادیث النبویہ جو بالاقساط ماہنامہ رسالہ صوفی اعظم میں شائع اور مقبول ہوئیں ۔دکن کے علاقہ ہی میں حدیثی خدمات کا ایک جلی عنوان بحرالعلوم والفقہ حضرت علامہ محمد عبد القدیر صدیقی المتخلص حسرت علیہ الرحمہ کی شخصیت ہے ،آ پ ایک مسفر،اصول ، متکلم،مفکر،مناظر،صرفی ،نحوی ،شاعر ،ادیب،شیخ طریقت ہونے کے ساتھ ایک محدث کی حدیث سے بھی معروف ہوئے ۔آپ کی تصانیف میں جا بجا احادیث نبویہ کے ذ خائر ملتے ہیں آپ کی تصنیف الدین کو علم حدیث کی عظیم خدمت کے طور پر شمار کیا جاتاہے۔دکن کے خطے میں حدیث شریف کی خدمات کا ایک عظیم مرکز جامعہ نظامیہ ہے جس کے بانی ومؤسس اور روح رواں شیخ الاسلام حضرت شاہ محمد انوار اللہ فاروقی رحمۃ اللہ علیہ ہیں ۔علم حدیث کے تحفظ فروغ اور ارتقاء میں جامعہ نظامیہ کی خدمات در اصل مؤسس جامعہ کی خدمات کا حسن تسلسل ہے ،حضرت شیخ الاسلام کو علوم حدیث سے والہانہ لگاؤ اور بے پناہ شوق تھا جس کا اظہار ہند اور حرمین شریفین پر بھی ہوتا رہا۔

حضرت شیخ الاسلام کے والد کے جد کریم حضرت شاہ رفیع الدین قندہاری رحمۃاللہ علیہ کو فخرالمحدثین اور شیخ العرب والعجم سے یاد کیا جاتا ہے ،حضرت شاہ رفیع الدین قندہاری نے اپنا سلسلہ درس وتدریس مدینہ منورہ میں جاری فرمایا تھا ،علامہ یوسف نبہانی کو آپ ہی کےسلسلہ حدیث کی سند حاصل ہے ،وسائل الوصول فی شمائل الرسول ،ثمرات المکیہ اور انوار الرفیع میں اسکی تفصیلات دیکھی جا سکتی ہیں۔حضرت شیخ الاسلام نےحضرت عبد اللہ یمنی سے علم حدیث کی تحصیل فرمائی علاوہ ازیں آپ کو محدث وقت حضرت الشیخ ابو علی محمد اعظم حسین صدیقی خیر آبادی رحمۃاللہ علیہ سے صحاح ستہ وغیرہ کی سند حاصل ہے جو کتب خانہ جامعہ نظامیہ میں موجود ہے ۔حضرت شیخ الاسلام کی خدمات حدیث میں مجموعہ منتخبہ من الصحاح ہے مولانا سید ناصرالدین جیلانی کو اس پر تحقیق و تعلیق کے بعد عثمانیہ یونیورسٹی سے 2010ء میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری تفویض کی گئی۔

انوار احمدی کو علماء سیرت نے نعت منشور قرار دیا ہے ۔اس کتاب کےتین سو سے زائد صفحات پر تین سو احادیث اثبات سے مدعا کے لئے حضرت نے درج کئے ہیں ۔ساٹھ سے زیادہ اس کے مراجع و مصادر ہیں ۔

الکلام المرفوع فیما یتعلق بالحدیث الموضوع حضرت شیخ الاسلام کی محدثانہ بصیرت کا اعلی نمونہ ہے اس کتاب کے مضامین و ترتیب الہامی شان رکھتے ہیں اوربحیثیت فضائل علم و علماء پر ایک بے نظیر کتاب ہے جس میں ترمذی ،ابوداؤد ،ابن ماجہ ،حاکم ،بیہقی ،طبرانی،ابونعیم،ابن عدی کی احادیث کو جمع اور ترجمہ کیا گیا ہے۔اس کے علاوہ حضرت شیخ الاسلام نے ۔۔۔۔۔تفاہیم حرمین شریفین حدیث پاک کے نادر و نایاب مخطوطات کو نقولات جیب خاص سے نہ صرف ےتیار کروالیں بلکہ اس کی اشاعت کا بھی اہتمام بھی فرمایاان میں سر فہرست کنز العمال حضرت علی متقی رحمۃ اللہ علیہ ہے اس کے علاوہ جامع مسانید امام اعظم ،الاحادیث قدسیہ ،الجو ہوالنقی کے نسخہ بھی آپ نے شائع کروائے ان خدمات کے پیش نظر شیخ الاسلام کوسیوطئ دکن کہا جائے تو بیجا نہ ہوگا۔محدثین جامعہ میں حضرت علامہ عبد الکریم افغانی کا نام آتا ہے آپ کو مولانا شاہ محمد صاحب رام پوری سے سند حدیث حاصل تھی ۔صدرالمدرسین کی حیثیت سے نماز فجر سے لے کر مغرب تک امہات الکتب کا درس دیا کرتے تھے۔

جامعہ کی خدمات حدیث کا روشن ستعارہ علامہ مفتی محمد یعقوب المحدث اعظمی ہیں حضرت شیخ الاسلام سے آپ کو بیعت و خلافت حاصل تھی۔ فن حدیث میں یکتائے زمانہ تھے آخر وقت تک اس خدمت میں مصروف رہے۔علامہ حکیم صمدانی اپنی خدمات حدیث کے باعث طاقِ ذکر و فکر میں تا حال زندہ ہیں۔حضرت بہاءالدین زکریا ملتانی کے خانوادہ کے چشم و چراغ تھے۔65تصانیف میں 25کا تاریخ ،فقہ،حدیث سے تعلق ہے جن میں معیار الحدیث کو شہرت حاصل ہے۔علامہ شاہ محمد شطاری نے علم تفسیر،تصوف و حدیث میں جو نقوش ثبت کئے ہیں۔وہ آج تک باقی ہیں ۔حضرت مولانا عبد الرحمن سہانپور ی سے تدریس و سند حدیث کا افتخار حاصل ہے۔جامعہ نظامیہ میں شیخ الحدیث کی حیثیت سے آپ کی خدمات یادگار ہیں الفرقان ،قرآن وحدیثی خدمات کا ترجمان تھا۔علامہ مفتی محمد رحیم الدین کو اپنے خسر محترم علامہ مفتی یعقوب کے علاوہ علمائے حرمین فضیلۃ الشیخ محمد عبد الباقی ،فضیلۃ الشیخ محمد بن احمد سے سند اجازت حدیث حاصل تھی۔مجلس احیاء المعاف العثمانیہ کے لئے آپ کی خدمات حدیث نہایت یاد گار ہیں ۔حضرت عبد الوہاب عندلیب کا شمارجامعہ نظامیہ کے ان علماء میں ہوتا ہے جو اپنی ذات میں ایک انجمن تھے آپ نے 80 موضوعات پر 3200 احادیث کا با حوالہ متن ومنظوم ترجمہ کا عظیم کارنامہ انجام دیا اس کے علاوہ تعلیم الاحادیث کے نام سے ایک کتاب میں پانچ ہزار احادیث جمع فرمائیں ۔حضرت شیخ الاسلام نے آپ کی کاوشوں کو سراہا تھا۔علامہ سید محمد بادشاہ حسینی رحمۃ اللہ علیہ نے اربعین شاہ ولی اللہ کا اردو ترجمہ فرمایا ۔اس اربعین کے روبرو اہل بیت نبوت سے تعلق رکھتے ہیں،حضرت پادشاہ حسینی رحمۃاللہ علیہ درس تصوف کے ساتھ مخصوص درس حدیث بھی دیا کرتے تھے۔

علامہ ابو الوفا ءافغانی کی خدمات حدیث جامعہ نظامیہ کا علمی نشان ہیں کتاب الاصل ،کتاب الاثار،الجامع الکبیر امام ۔۔۔جیسی بلند پایہ کتابوں کی تحقیق و تدقیق کے ساتھ عالمانہ مقدمے تحریر فرماتے ،درس حدیث ہر یکشنبہ کو ہو ا کرتا تھا ۔آ پ کے قلم سے آ خری عبارت حدیث ہی کی لکھی اس کے بعد آپ سخت علیل ہو کر وصال فرما گئے ۔صدر جمہور یہ ایوارڈ آپ کی خدمات پر 1971ءمیں دیا گیا۔مولانا عبد اللہ المدیحج حضرمی کی خدمات حدیث کو جامعہ نظامیہ کبھی فراموش نہیں کر سکتا آپ نے نہایت جانفزانی مہارت سے جن کتب کی تعلیق فرمائی اور شرح تراجم ابواب بخاری اور اربعین فی اصول الدین شامل ہیں ۔علامہ حکیم محمد حسین رحمۃاللہ علیہ جامعہ نظامیہ کی تاریخ کا انمول ہیرا ہیں پروفیسر ڈاکٹر محمد سلطان محی الدین کے مطابق آپ کا درس حدیث کی خصوصیا ت کا حامل ہوا کرتا تھا شیخ الحدیث سے آپ مشہور ہیں ۔علامہ مفتی عبد الحمید جامعہ نظامیہ کے شیخ الجامعہ ،ماہر تعلیم ،امام المنطق و فلسفہ اور محدثانہ زان کے مالک تھے ۔مسند ابی عوانہ جلد چہارم و جلد پنجم کو آپ نے ایڈٹ فرمایا جسے دائرۃ المعارف العثمانیہ نے اہتمام سے شائع کیا۔علامہ حاجی محمد منیر الدین شاذلی جامعہ نظامیہ کی تاریخ حدیث کا جلی عنوان ہیں ،شیخ الحدیث کی مسند سے آ پ نے علم حدیث اعلی کتب کی تدریس اپنے۔۔۔۔فرمائی،آپ کو علامہ مفتی رحیم الدین اپنے علامہ مفتی مرزا مخدوم بیگ رحمۃ اللہ سے مند حدیث حاصل تھی ۔ آپ نے زجاجۃ المصابیح کا اردو ترجمہ نورالمصابیح کے نام سے فرمایا۔ابن نباتہ کے خطبات کا بھی آ پ نے اردو ترجمہ فرمایا یہ ہند وپاک میں مشہور و۔۔۔۔عہد حاضر میں حضرت کےعلاوہ محمد خواجہ شریف قادری کی خدمات زبان زد خاص و عام ہیں مقدمہ ثروۃ القاری من انوار البخاری ،نور المصابیح مکمل ،امام اعظم امام المحدثین عربی ترجمۃ الکلام المرفوع نے جامعہ نظامیہ کے سرمایہ حدیث میں گرانقدر اضافہ کیا ہے ۔ان کے علاوہ علامہ الطاف حسین فاروقی رحمۃاللہ علیہ ،علامہ سید حبیب اللہ قادری رشید پاشاہ ،ڈاکٹر قاضی عبد الشکور نظامی ، حجرت حافظ عزیز بیگ نقشبندی ،علامہ ابو بکر ہاشمی ،علامہ مفتی ابراھیم الہاشمی ،علامہ مفتی خلیل احمد اور کئی خدمات حدیث سے صرف نظر کرنا ایک بڑے علمی ورثہ سے محروم ہونے کے مترادف ہوگا۔

آج کے موضوع کا دوسرا حصہ ہے    دائرۃ المعارف العثمانیہ۔ کی خدمات

دائرۃ المعارف سواسو سال کا وہ مسافر ہے جو ابھی تک جوان ہے ،دائرۃ المعارف العثمانیہ نے ہند وستانی مسلمانوں کے سر کو اقوام عالم میں اونچاکردیا دائرۃ کے علمی دائرہ نے دنیا بھر کے اساطین علم و ادب کو اپنے دائرہ علم و تحقیق میں لے لیا ہے وہ کونسا محقق و مستشرق ہے جو دائرۃ کی زلف رہ گیر کا اسیر ہیں اور برکات شیخ الاسلام سے ۔۔۔ابو الکلام تک ابو الوفا سے ابو الحسنات تک سبھی نے دائرہ کو اپنی دعائے سرکاہی سے استحکام بخشا۔صو ت اشرق کے ایڈیٹر جرجیس خلیل نے دائرہ کی کتاب المعانی الکبیر کا مشاہدہ کیا تو بے ساختہ ان کی زبان سے نکلا۔

نحن تحسنی رؤسناامام ھولاء الاعاجم۔یعنی ہم ان غیر عرب محققین کے آگے اپنے سرجھکاتے ہیں ۔دائرۃ  نے ز،انے کے بڑے پروگرام جیسے اور اپنی بقا کی سنگ بھی کڑی اس کا علمی کا رواں یہ کہتے ہوئے آج بھی آگے بڑھ رہا ہے ۔

 

جنوں سلامت تو اپنی ٹھوکرمیں یہ زمین بھی یہ آسمان بھی

 ہمارے عزم سفر کی زد میں ہیں ماہ و انجم بھی کہکشاں بھی

 

شیخ الاسلام شاہ محمد انوار اللہ فاروقی ،عماء الملک بلگرامی ،ملا عبد القیوم کے علمی شکوہ کی نشانی دائرۃ نے خدمت حدیث کی ایک تاریخ رقم کی ہےجو مضبوط مربوط اور بڑی مبسوط ہے ۔دائرۃ المعارف نے تفسیر ،تجوید ، منطق، کلام ،تاریخ فقہ ،سیر ،مناقب ،ترجمہ ، عقائد،ادب، لغت صرف نحو ،معانی ،ریاضی،ہیئت،طب ،جغرافیہ کے ساتھ علم وفن ،حدیچ میں گرانقدر اعلی اور انمول شاہکار علمی دنیاکو دئیے ہیں ۔

اصول حدیث میں دائرۃ المعارف نے عرب و عجم کی جو جواہر پارے عطاکئے ان میں

  • ار اعتبار ، ابن حازم الھمذانی (تاریخ و منسوخ کے بیان میں )
  • الاھم لایقاظ الھمم،  بغیتہ الطالبین ،  الامداد ،  قطب الثمر ،  إتحاف الاکابر
  • کتاب الکفایۃ فی علم الروایۃ ،
  • مشکل الحدیث ،  ابن جورک،
  • معرفۃ علم الحدیث ، الحاکم انیشاپوری۔

متون حدیث میں دائرۃ المعارف العثمانیہ نے جو شہ پارے دئے ان میں

  • اور تحافات النسیہ فی الحادیث القدسیہ،
  • جامع مسانیدامام اعظم ابوحنیفہ رحمۃاللہ علیہ
  • الجواھرالنقی ،
  • السنن الکبری
  • شرح تراجم ابواب صحیح بخاری
  • عمل الیوم والیلۃ
  • القول المسدد
  • کنزالعمال ، ۲۲ جلد
  • المستدرک للحاکم
  • مسند ابوداؤد الطیالسی
  • مسند ابو عوانہ
  • مشکل الآثار
  • المعتصرمن المختصر من مشکل الآثار۔ شامل ہیں۔
  •     فن رجال و اسانیدیں دائرۃ المعارف کی حسب خدمات ہیں۔
  • الاستیعاب فی معرفۃ الاصحاب
  • التاریخ الکبیر،
  • تذکرۃ الحفاظ
  • تعجیل المنفعہ،
  • تہذیب التہذیب،
  • ۔۔۔کتاب جرح وتعدیل
  • الجرح و التعدیل
  • الجمع بین رحال الصحیحین
  • قرۃ العین،
  • کتاب الکنی ۔ امام بخاری
  • تعجیل المنفعہ ،  علامہ ابن حجر،
  • تجرید اسماء الصحابہ۔ علامہ ذہبی
  • لسان المیزان ، ابن حجر عسقلانی
  • الموضح ۔  خطیب بغدادی
  • کتاب الثقات ۔  ابن حبان
  • بیان خطاء بخاری۔  ابن ابی حاتم
  • کتاب الفقیہ۔  ابن نقطہ
  • کتاب ذیل التقید
  • الرجال فی تاج العروس

علامہ سید پاشاہ قادری ،  علامہ مفتی عظیم الدین،  علامہ ابوبکر ہاشمی،  علامہ عمران اعظمی،  علامہ ڈاکٹر حافظ سمیع اللہ صاحب،  علامہ عمر الھاشمی،  جیسے فرزندان نے اللہ کو اپنا لہو دے کے پہنچائے۔

الغرض دکن میں علم حدیث کی ارتقاء کی داستان سنہرے حروف سے لکھے جانے کے قابل ہے۔

دستور زباں بندی توہین لیکن پھر بھی بات کہنے کو ترستی ہے زباں میری ۔

   بڑے شوق سے سن رہا تھا زمانہ    ہمیں رک گئے داستاں کہتے کہتے ۔     شکریہ۔

٭٭٭