ladies-prayer

حقوق الزوجین

قال سبحانہ وتعالیٰ ’’ولہن مثل الذی علیہن بالمعروف‘‘ (الایۃ) ’’وعاشروہن بالمعروف‘‘۔

ان آیتوں سے ظاہر ہے کہ شریعت نے مرد اور عورت دونوں کے لیے حقوق وفرائض رکھے ہیں۔ ان کی ادائیگی ہر دو کے لئے دونوں جہاں میں سکون وراحت کا باعث ہے۔ مرد کے ساتھ عورت کی تخلیق کی غرض بھی یہی ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے ’’ومن آیاتہ ان خلق لکم من انفسکم ازواجا لتسکنوا الیہا وجعل بینکم مودۃ ورحمۃ‘‘ (روم آیت ۲۱) اور اس کی نشانیوں میں سے ہے کہ اس نے تمہارے لئے تم میں سے جوڑے پیدا کئے تا کہ تم ان کے پاس سکون حاصل کرو۔ اور اس نے تمہارے درمیان محبت اور مہربانی کو رکھا۔

اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے مرد کے ساتھ عورت کی تخلیق کا مقصد بیان فرمایا ہے کہ تزویج کی غرض سکون حیات ہے۔ اور اس کے لیے آپس میں جذبہ محبت ومہربانی کو ودیعت کیا گیا ہے۔ کیونکہ جذبہ محبت ورحمت کے بغیر زوجین کا رشتہ پائیدار اور استوار نہیں رہ سکتا، اور ایک دوسرے کے حقوق ادا نہیں کئے جاسکتے، بلکہ ادائی حقوق میں ظلم ہوگا اور زندگی ناخوشگوار ہوجائے گی۔

 

عورت کے حقوق کی اہمیت:

’’ولہن مثل الذی علیہن بالمعروف‘‘ (بقرہ) اس آیت کریمہ میں عورتوں کے حقوق کا ذکر مقدم ہے ان کی ذمہ داریوں پر اس میں اس بات کی طرف بھی اشارہ ہے کہ عورتوں سے ان کی ذمہ داریوں کا مطالبہ کرنے سے پہلے ان کے حقوق کو ادا کروؤ۔ مرد کو اللہ تعالیٰ نے قوام بنایا ہے ’’الرجال قوامون علی النساء‘‘ (نساء) عورت مرد کی رعایا ہے اور مرد حاکم کی طرح ہے۔ اسی لیے عورت کے مقابلہ میں مرد کی ذمہ داریاں زیادہ ہیں۔ اس کے بر خلاف عورت اپنی تخلیقی کمزوریوں اور نزاکتوں کی وجہ سے اس کے حقوق زیادہ اور ذمہ داریاں کم ہیں۔ او رمرد کی زیادہ عنایت وتوجہ کی ضرورت مند ہے۔

اسی لیے مرد کو قرآن وحدیث میں عورت کے ساتھ حسنِ معاشرت کی بکثرت تاکید کی گئی ہے۔ ’’عاشروہن بالمعروف‘‘ (نساء) ان (عورتوں) کے ساتھ اچھا سلوک کرو۔

’’واخذن منکم میثاقا غلیظا‘‘ (نساء) عورتوں نے تم سے سخت عہد وپیمان لیا ہے۔ ’’والصاحب بالجنب‘‘ (نساء) تمہارے پہلو میں رہنے والے کے ساتھ حسن سلوک کرو۔ ’’استواصوا بالنساء خیرا‘‘ (بخاری ۲۱) عورتوں کے ساتھ بھلائی کرنے کی تم کو وصیت یعنی تاکیدی حکم دیا جاتا ہے۔ اسی لیے فقہاء کرام نے حقوق الزوجین پر مستقل کتابیں لکھی ہیں دنیا کی سب سے بڑی سلطنت اسلامیہ کے قاضی قضاۃ حضرت ابو یوسف رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی کتاب ’’النفقات‘‘ میں اس پر تفصیلی بحث فرمائی ہے اور فقہ اسلامی کے جملہ متون وشروح قدوری سے لے کر ہادیہ اور تمام کتب فتاویٰ شامی اور عالمگیری تک ہر ایک میں اس کی تفصیلات نہایت شرح وبسط کے ساتھ موجو دہیں۔ سب سے پہلے ہم عورتوں کے حقوق کا جائزہ لیں گے۔

 

اسلام میں عورتوں کے حقوق:

اسلام دین فطرت ہے اس میں فطری تقاضے ہر جگہ ملحوظ ہیں۔ اس لیے اسلام نے عورت کو اس کی نسوانیت اور انوثت کو باقی رکھتے ہوئے ایک کامل عورت کی حیثیت سے دنیا میں ہر ایک مذہب سے زیادہ حقوق دئیے ہیں۔ اس کے بر خلاف آزادی نسوان کے مزعوم دعویدار تحریکات نے عورت کو اس کے حقوق بھی کم دئیے ہیں اور ذمہ داریوں کا بوجھ بھی زیادہ کردیا ہے اور عورت کے ساتھ سب سے بڑا ظلم اور غیر فطری عمل یہ کیا گیا کہ اس کو نیم مرد یا مردوں کے مشابہ بنادیا گیا اور مردوں کی صف میں لاکر کھڑا کیا گیا۔

اسلام میں عورت کے حقوق کو ہم تین (۳) زمروں میں تقسیم کرسکتے ہیں۔

(۱)شخصی حقوق!       (۲)معاشرتی حقوق (۳)معاشی حقوق۔

شخصی حقوق اس کی ذات سے متعلق ہیں، معاشرتی حقوق دوسرں کے ساتھ اس کے سلوک کے طور وطریق۔ معاشی حقوق میں حقوقِ ملکیت۔

(۱)شخصی حقوق کی فہرست بہت طویل ہے۔ اجمالی طور پر اس کو (۶)خانوں میں تقسیم کرسکتے ہیں۔

(۱)تعلیم وتربیت   (۲)شادی   (الف):اختیار شوہر   (ب):خلع وفسخ   (۳)نان ونفقہ وسکنیٰ   (الف):وجنیات طعام   (ب):لباس   (ج):مکان۔

٭٭٭