khawateen

عورت اور نظامِ اسلام

الحمد للہ رب العالمین والصلاۃ والسلام علی سید الانبیاء والمرسلین واٰلہ وصحبہ اجمعین۔ اما بعد!

عورت اور معاشرہ یہ عنوان ہر دور میں اہمیت کا حامل رہا ہے، اور موجودہ دور میں اس کی اہمیت پہلے سے زیادہ بڑھ گئی ہے، مسلم عورت جو ساری دنیا کی عورتوں کے لئے نمونہ تھی آج وہ پریشان حال اور مصائب کا شکار ہے مسلم عورت جو دنیا کی عورتوں کو درس دیتے تھی آج وہ غیروں کے راستہ پر چل پڑی ہے مسلم عورت کی تہذیب وثقافت جس کو دنیا قدر کی نگاہ سے دیکھتی تھی آج وہی مسلم عورت تنقید کا نشانہ ہے اسلامی تہذیب میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی مگر مسلم عورت کی تہذیب بدل گئی وہ مشرقی روشن تہذیب کو چھوڑ کر مغرب کی ڈوبتی تہذیب کو وہ اختیار کرنے لگی ہے آج مسلم عورت کی تہذیب وترقی معکوس کیوں ہوگئی اور وہ کیوں غیروں کی تہذیب کو اختیار کرنے لگی حالانکہ اسلام میں عورت کو بڑا مرتبہ عطا کیا گیا ہے اور اس کو پاکیزہ اور معطر ایسی آزادی بھی دی ہے جو اس کے حقوق کے ساتھ ساتھ اس کی عفت وعصمت کی بھی ضامن ہے سورہ بقرہ کی آیت ہے: ’’ہن لباس لکم وانتم لباس لہن‘‘۔ مرد عورت دونوں ایک دوسرے کے لباس ہیں وہ ایک دوسرے کے لئے لازم وملزوم ہیں یہ دونوں ٓآپس میں زوجین کہلاتے ہیں وہ ایک دوسرے کا جوڑا ہیں۔مرد کو اس کی تخلیقی قوتوں کے اعتبار سے قوّام بنایا تو عورت کو اس کی تخلیقی نزاکت کے اعتبار سے حسن وجمال کا پیکر بنایا بخاری ومسلم کی متفق علیہ حدیث ہے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت انجشہ ساربان حدی خوان کو فرمایا ’’رویدک یا انجشۃ لاتکسر القواریر‘‘ اے انجشہ آہستہ چلاؤ یہ آبگینے ہیں توڑو مت ، حضرت قتادہ فرماتے ہیں اس سے مراد خواتین ہیںاس حدیث سے ظاہرہے خواتین حسن وجمال کا پیکر ہیں حساس اور نازک مزاج ہوتی ہیں مرد حضرات کے لئے ان کا خیال رکھنا ضروری ہے یہ حقیقت ہے خواتین دنیا کے حسن وجمال اور اس کی بہار ہیں علامہ اقبال نے اپنے اس شعر میں اسی کی ترجمانی کی ہے:

وجودِ زن سے ہے تصویرِ کائنات میں رنگ

اسی کے ساز سے ہے زندگی کا سوزِ دروں

عورت دنیا میں راحت جاں اور سکون قلب وقرار ہے قرآن مجید میں ارشاد ہے: ومن اٰیاتہ ان خلق لکم من انفسکم ازواجا لتسکنوا الیہا وجعل بینکم مودۃ ورحمۃ ان فی ذلک لایت لقوم یتفکرون۔ (سورۂ روم) اور اس کی نشانیو ںمیں سے ہے کہ اس نے تمہارے لئے تمہارے ہی نفوس سے بیویوں کو پیدا کیا تاکہ تم ان کے پاس سکون پاؤ اور تمہارے درمیان رحمت ومحبت کو رکھا غور کرنے والوں کے لئے اس میں نشانیاں ہیں

اسلام نے عورت کی عظمت شان کو بلند کیا اور ایک مقام پر بی بی مریم علیہا السلام کے بارے میں فرمایا لیس الذکر کالانثی کہ وہ لڑکا اس لڑکی کی طرح نہیں۔ اور ایک واقعہ میں حضرت خضر علیہ السلام جب ایک حسین وجمیل لڑکے کو قتل کردئیے تھے تو موسیٰ علیہ السلام کے سوال پر آپ نے فرمایا تھا اللہ تعالیٰ اس سے بہتر اس کا بدل عطا کرے گا تو اللہ نے جو عطا فرمایا ایک روایت کے مطابق اس کا نعم البدل لڑکی پیدا ہوئی ۔

لڑکی اللہ کی عطا ہے اس کو کم نظر سے دیکھنا گناہ ہے عورتوں کی عظمت شان اور ا ن کے مسائل کے بیان کے لئے اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں ایک مستقل سورہ، سورہ نساء اس کے علاوہ اورسورتیں بزرگ خواتین کے نام سے قرآن میں نازل ہوئیں اس میں عورت کے ہر پہلو سے اور ہر مسئلہ سے متعلق رہنمائی کی گئی ہے قرآن مجید اور احادیث شریفہ اور فقہائے امت کے اجتہادات میں عورت کی زندگی سے متعلق چھوٹے بڑے تمام متعلقہ مسائل اور احکام اور ایک شامل وکامل قانون واسلوب بیان کئے گئے

قرآن مجید کااعجاز ہے کہ دو کلموں میں اس کی صلاح وفلاح سے متعلقہ ہزاروںمسائل کا احاطہ کیاگیا، سورہ نساء کی آیت میں ہے فالصلحت قٰنتت حفظت للغیب بما حفظ اللہ نیک عورتیں فرمانبردار ہوتی ہیں اور اللہ کی حفاظت کے سبب سے غائبانہ میں حفاظت کرنے والی ہوتی ہیں ، قنتت یعنی اطاعت شعار وفرمانبردار اللہ اور اس کے رسول کے احکام کی شوہر کی ماں باپ کی اور تمام احکام کی معروف میں پابندی کرنے والی ۔

حفظت للغیب: اپنی عفت وعصمت کی عزت وآبرو کی حفاظت کرنے والی اور شوہر کی اور اپنے مال ومتاع کی اور تمام حدود شریعت کی حفاظت کرنے والی، خلوت میں جلوت میں تقویٰ وپرہیزگاری کو اختیار کرنے والی یہ دو کلمے اس قدر جامع شامل وکامل ہیں کہ اس کی شرح کے لئے دفتر کے دفتر لکھے جاسکتے ہیں اللہ تعالیٰ کا عورت پر بڑا کرم ہے بظاہر کمزور معلوم ہوتی ہے مگر اللہ تعالیٰ نے بما حفظ اللہ فرماکر اس کی حفاظت کا بھرپور سامان کیا ہے عورت کی حفاظت کا جذبہ ہر مرد کے دل میں موجزن کیا ہر سنجیدہ انسان دورونزدیک کا کوئی بھی شخص ہو عورت کی حفاظت کے لئے اپنی جان کی بازی لگاتاہے اسلام نے عورت کی شان کی حفاظت کے لئے تہمت لگانے والوں پر سخت سزائیں مقرر کیں اور سورہ نور میں ہے: ’’ان الذین یرمون المحصنت‘‘ (الایۃ) جو لوگ پاکدامن عورتوں پر اور ان عورتوں پر جو برائی سے دور اور ایماندار ہیں ان پر تہمت لگاتے ہیںتو ان پر دنیا اور آخرت میں لعنت کردی گئی ہے خدا کی رحمت سے وہ دور ہیں، اوراس کی عصمت وعفت کی حفاظت کے لئے اور عظمت شان کو بڑھانے کے لئے اس کو حجاب اور پردہ کا حکم دیاعظمت کی شئی کو بے پردہ نہیں کیا جاتا کیونکہ بے پردگی کسی شئی کی عظمت کو گھٹادیتی ہے۔ پردہ عورت کے لئے مضبوط قلعہ ہے اور رشتوں کے اعتبار سے پردے کے مراتب مقرر کئے گئے اور ضرورت ہو تو غیر محرم سے بات وچیت وگفتگو کے اصول وقواعد مقرر کئے گئے اور عمر کے مناسب وقت پر شادی کا حکم دیا گیا پھر اس کے اصول وقواعدبتائے گئے جس کے منجملہ فوائد یہ ہے کہ اس کی عصمت کی حفاظت ہو اور ایک پاکیزہ نسل انسانی وجود میں آئے، پردہ دراصل عورت کا سب سے بڑا ہتھیار ہے یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ دارین میں کامیابی کے لئے ہر ایک کو علم وعمل کی ضرورت ہے اسی لئے اسلام نے مرد کی طرح عورت پر بھی حصول علم کو فرض کیا: حدیث شریف میں ہے طلب العلم فریضۃ علی کل مسلم ہر مسلمان مرد وعورت پر علم کا طلب کرنا فرض ہے۔ سورہ احزاب میں ہے واذکرن مایتلی فی بیوتکن من ایات اللہ والحکمۃ ان اللہ کان لطیفا خبیرا۔ (آیت:۳۴) اس آیت سے عورت کی تعلیم کی اہمیت وضرورت معلوم ہوتی ہے، اور یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ علم کے ساتھ ساتھ حکمت کی بھی ضرورت ہے۔ امام بخاری نے کتاب العلم میں عورت کی تعلیم کے متعلق ابواب وعنوانات قائم کئے حتی کہ باندی اور خادمات کی تعلیم کی ضرورت کو بھی بیان فرمایا قرن اول سے ہی مسلم عورتوں کے لئے تعلیم کا اہتمام رہا ہے اور ہر دور میں مسلم خواتین کی قابل لحاظ تعداد تفسیر وحدیث فقہ وادب میں اور دیگر ضروری علوم وفنون میں مہارت وکمال پیدا کرتی نظر آتی ہیں، عورت اسلام میں معاشرہ کے ایک بااختیار فرد کی طرح ہے اس کی شادی کے لئے بھی اس کی رضامندی ضروری ہے معاشی واقتصادی زندگی میں اس کو مالکانہ حقوق حاصل ہیں حدود شریعت میں رہتے ہوئے وہ تجارت کرسکتی ہے اور اپنے اموال میں تصرف کرنے کا اس کو مکمل اختیار ہے اور اس کو عائلی مسائل میں حقوق بھی زیادہ حاصل ہیں شادی سے پہلے اس کے نان نفقہ کی ذمہ داری اسکے ماںباپ پر ہے تو شادی کے فوری بعد سے اس کانان ونفقہ اورمکان وسکنی کی پوری ذمہ داری شوہر پر ہے وہ اپنے رہنے کے لئے شوہر کی طرف سے موزوں اور مناسب مکان پانے کا حق رکھتی ہے قرآن پاک میں ارشاد ہے: ’’وعاشروہن بالمعروف‘‘ (سورہ نساء) اس آیت کی تفسیر میں علامہ قرطبی اور دیگر مفسرین یہ بھی لکھتے ہیں کہ شوہر پر بیوی کے منجملہ حقوق میں سے ہے کہ اگر وہ صاحب استطاعت ہے تو اس کو چاہئے کہ بیوی کی ضروریات کی تکمیل کے لئے ایک خادم بھی مقرر کرے۔ نان نفقہ کی مقدار کا تعین زوجین کے حیثیت ووقار سے ہوگا قرآن مجید میں ہے ’’وعلی الموسع قدرہ وعلی المقتر قدرہ‘‘ (سورۂ بقرہ) صاحب وسعت پر اس کے اعتبار سے اور تنگدست پر اس کی حیثیت سے نفقہ واجب ہے بچوں کی پرورش میں ماں باپ دونوں شریک ہیں مگر نفقہ باپ کے ذمہ ہے عورت کے لئے اسلام نے آمدنی کے وسائل بند نہیں کئے وہ حدود شریعت میں رہتے ہوئے کاروبار وملازمت کرسکتی ہے عورت کی آمدنی عورت کی ہی ملک ہے، اس پر شوہر کا یا کسی دوسرے کا کوئی حق نہیں اس کے علاوہ عورت لئے جو تحائف وہدایا آتے ہیں وہ بھی عورت ہی کی ملک ہیں۔ شادی کا مہر اور شادی کے تحفے تحائف عورت کے لئے جو آتے ہیں یہ سب عورت ہی کی ملک ہیں۔ نیز میراث میں اس کے لئے متعدد جہت سے حصے مقرر کئے گئے ہیں وہ بحیثیت بیوی اور بحیثیت بیٹی بحیثیت بہن بحیثیت ماں اور بحیثیت دادی ذوی الفروض میں سے ہے اس کے برخلاف بیٹا ذوی الفروض میں سے نہیں ہے بھائی ذوی الفروض میں سے نہیں ہے توفیر آمدنی کے مختلف ذرائع عورت کو حاصل ہیں اور کسی کا نفقہ اس پر نہیں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عورت ناقصات عقل ودین ہے وہ کسی ملک کی ایسی سربراہ جس کا پورے ملک پر کنٹرول ہو نہیں بن سکتی مگر اس کے علاوہ دیگر چھوٹے بڑے عہدوں پر فائز ہوسکتی ہے فوج میں بھی وہ اپنا حصہ ادا کرسکتی ہے لیکن یاد رہے وہ کہیں بھی ہو اور کچھ بھی ہو اس کے لئے حجاب کی ضرورت ہے اور حدود شریعت میں رہنا لازم ہے۔اسلام میں عورت کو اجتماعی مسائل میں رائے دینے اور مشورہ دینے کا حق حاصل ہے اور ووٹ ڈالنے کا بھی حق حاصل ہے۔ عورتوں کے خصوصی احوال وخصوصی امراض ہوتے ہیں اس کے لئے اسلام نے ان کو علم طب اور ڈاکٹری کی تعلیم حاصل کرنے کی اجازت دیا ہے حتی کہ ضرورت ہو تو وہ مرد کا بھی علاج کرسکتی ہیں امام بخاری نے باقاعدہ اس کے لئے عنوانات قائم کئے اور متعدد احادیث کو جمع کیا کہ عورت حسب ضرورت مرد عورت سب کا علاج کرسکتی ہے ۔

مخفی مباد اسلام اپنے نام کی طرح سلامتی کا علمبردار امن کا عدل وانصاف کا پیکر مذہب ہے اور وہ بلاامتیاز رنگ ونسل حقوق انسانیت اور حقوق نسوان کا پاسبان ہے۔ اسلام روز اول سے عورت کو عظمت کا مقام دیا اور اس کے ساتھ حسن سلوک کا حکم فرمایا حضورﷺ کا ارشاد ہے ’’خیارکم خیارکم لاہلیکم‘‘ تم میں سب سے اچھے وہ لوگ ہیں جو اہل وعیال کے ساتھ اچھے ہیں، اور آپﷺ کی آخری نصیحتوں میں سے یہ بھی ہے کہ تم عورتوں کے ساتھ اچھا سلوک کرنا عورت اسلام میں ذمہ دارانہ منصب رکھتی ہے، حدیث دعیت میں ہے ’’المرأۃ راعیۃ ومسؤلۃ عن رعیتہا‘‘۔ عورت ذمہ دار ہے اور وہ اپنی ذمہ داری کے بارے میں پوچھی جائے گی، آج ہر طرف اصلاح معاشرہ کی بات ہوتی ہے اور اس کے لئے جلسے بھی ہوتے ہیں سب سے پہلے یہ معلوم کریں کہ معاشرہ میں بگاڑ کی وجہ کیا ہے، بگاڑ کی وجہ ظلم ہے، ظلم حق تلفیوں کا نام ہے آئے دن عورت کی حق تلفیاں ہورہی ہیں اصلاح معاشرہ کے لئے اس بات کی ضرورت ہے کہ عورت کو اپنے میکے میں اپنے سسرال میں اس کے حقوق کی حق تلفی نہ کی جائے، حق تلفیوں کے ساتھ ظلم سہنے کی بات اچھی معلوم نہیں ہوتی۔ خاندان میں چھوٹے بڑوں کو ایک دوسرے کے حقوق ادا کرنے بڑوں کی خدمت کرنے اور چھوٹوں پر شفقت کرنے خاص طور پر اولاد کو ماں باپ کے ساتھ حسن سلوک اور شوہر وبیوی کو ایک دوسرے کے ساتھ محبت سے رہنے اور ایک دوسرے کے حقوق کا بھرپور خیال رکھنے کے لئے تاکید کرتے رہیں تو پھر دیکھو سارا معاشرہ دیکھتے ہی دیکھتے خوشیوں سے معمور ہوجائے گا۔

بہر حال عورت کو چاہئے کہ اسلامی اقدار کی پابند رہے اور اس کی خوشیاں ومسرتیں اور دنیا میں سرفرازی اور آخرت میں کامیابی اسلام اور اس کی تعلیمات پر عمل پیرا رہنے میں ہی مضمر ہے، مغربی تہذیب عورت کو ہلاکت کے گڑھے میں ڈال رہی ہے، اب مسلم عورتوں کا فر یضہ ہے کہ وہ مغربی تہذیب کو چھوڑدیں اور اسلامی اطوار واقدار کو تھام لیں احکامِ شریعت پر عمل پیرا رہیں خاص طور پر اپنے بچوں کو اسلامی تربیت دیں،اور اللہ اور اس کے رسول اور بزرگان دین اور صالحین کی محبت ان کے دل ودماغ اور قلب وجگر میں پیوست کریں۔

اللہ تبارک وتعالیٰ مجھے اور مسلم خواتین اور سب بندگان خدا کو توفیق خیر عطا فرمائے۔

وصلی اللہ تعالیٰ وسلم علی خیر خلقہ واٰلہ واصحابہ اجمعین۔

٭٭٭