adabyaat

التجا

یا الہی ہر جگہ تیری عطا کا ساتھ ہو

جب پڑے مشکل شہ مشکل کشا کا ساتھ ہو

یا الہی بھول جاؤں نزع کی تکلیف کو

شادیٔ دیدار حسنِ مصطفی کا ساتھ ہو

یا الہی گورِ تیرا کی جب آئے سخت رات

ان کے پیارے منہ کی صبح جانفرا کا ساتھ ہو

یا الہی جب زبانیں باہر آئیں پیاس سے

صاحب کوثر جود وعطا کا ساتھ ہو

یا الہی گرمی محشر سے جب بھڑکیں بدن

دامنِ محبوب کی ٹھنڈی ہوا کا ساتھ ہو

یا الہی نامہ اعمال جب کھلنے لگے

عیب پوشِ خلق ستار خطا کا ساتھ ہو

یا الہی جب بہیں آنکھیں حساب جرم میں

ان تبسم ریز ہونٹوں کی دعا کا ساتھ ہو

یا الہی رنگ لائیں جب میری بے باکیاں

ان کی نیچی نیچی نظروں کی حیا کا ساتھ ہو

یا الہی جب چلوں تاریک راہ پل صراط

آفتابِ ہاشمی نورالہدی کا ساتھ ہو

یا الہی جو دعائیں نیک ہم تجھ کریں

قدسیوں کے لب سے آمیں ربنا کا ساتھ ہو

یا الہی جب رضا خواب گراں سے سر اٹھائے

دولتِ بیدار عشق مصطفی کا ساتھ ہو

٭٭٭

نعت

امجدؔحیدرآبادی

کس چیزکی کمی ہے مولیٰ تیری گلی میں

دنیا تیری گلی میں عقبی تیر گلی میں

موت وحیات میری دونوں تیرے لئے ہیں

مرنا تیری گلی میں جینا تیری گلی میں

دیوانہ کردیا ہے دیوانہ ہوگیا ہوں

دیکھاہے جس نے ایسا جلوہ تیری گلی میں

سورج تجلیوں کا ہر دم چمک رہا

دیکھا نہیں کس دن سایہ تیری گلی میں

دیوانگی پہ میری ہنستے ہیں عقل والے

رستہ تیری گلی کا پوچھا تیری گلی میں

امجدؔ کوآج تک ہم ادنی سمجھ رہے تھے

لیکن مقام اس کا پایا تیری گلی میں

٭٭٭