fiqh

ائمہ اربعہ اور تقلید شخصی

تحقیق اور تقلید دو نوں فطری ہیں جب تک انسان میں تحقیق کی صلاحیت پیدا نہیں ہوتی وہ تقلید ہی کرتا ہے یہ اور یہ ایک امر بد یہی ہے جس کیلئے دلائل و براہین کی چنداں ضرورت نہیں ہوتی بلکہ تنبیہ درکا ر ہو تی ہے ۔ کہ اس کو اپنے امام و مقتدی کے انتخاب و اختیار کے وقت کن کن امور کو پیش نظر رکھنا چاہئے تاکہ اسے گمرہ ہونے کا اندیشہ و خطرہ لا حق نہ رہے۔ مسلم شریف میں محمد بن سیرین رحمتہ اللہ کا اثر منقول ہے.ان ہذا العلم دین فانظرو اعمن تاخذون دینکم در حقیقت یہ علم دین ہے پس تم غور کرو اپنا دین کس سے لے رہے ہو کیونکہ شریعت اسلامی کا مدار کتاب و سنت پر ہے۔

اور یہ دونوں سر چشمہ ‘قانون اسلام اور اس کے دستو ر ہیں اور فصاحت و بلاغت کے اعلی درجہ پر ہیں اس سے استبناط مسائل ہر کس و نا کس کے حیطہ قدرت سے باہر ہے بلکہ اس کیلئے اعلی درجہ کے عقل اور اونچے درجہ کی فہم درکار ہے۔علوم عربی ادب صرف ونحو‘ فصاحت وبلاغت معانی و بیان بدیع میں کمال لیاقت ہو اور لاکھوں احادیث اس کی نظر میں ہوں ناسخ و منسوخ سے واقف ہو تفسیر قرآن کے لئے درکار(۳۰۰) علوم اور تقوی و پرہیز گاری میں درجہ اجتہاد پر فائز ہو۔اسی لئے قرآن پاک اور بکثرت احادیث شریف میں مقلد اور مقتداء و امام کے بارے میں واضح ہدایات دی گئی ہے۔

تقلید کے لغوی معنی:

تقلید کے لغت میں معنی’’جعل القلادۃ فی العنق‘‘ یعنی انسان کا گردن میں قلادہ ڈالنا ہیں۔

تقلید کی اصطلاحی تعریف:

کسی مجتہد کے قول پر اعتماد کر کے کہ وہ قرآن و حدیث سے استبناط کرتے ہیں دلیل کا مطالبہ کئے بغیر قبول کرنا۔

تقلید کی غرض و غایت:

مجتہد سے قرآن مجید و حدیث شریف کے احکام معلوم کر کے اس پر عمل کرنا تاکہ سعادت دراین حاصل ہو۔

تقلید فی العقیدہ کا حکم:

جمہور علماء کے پاس بالاتفاق عقائد میں تقلید جائز نہیں جیسے وجود باری تعالیٰ توحید رسالت آخرت وغیرہ۔

احکام شرعیہ میں تقلید کا حکم:

احکام شرعیہ میں تقلید کے بارے میں دو قول(۱) تقلید جائز ہے(۲) تقلید نا جائز ہے۔ جمہورعلماء کے پاس جائز ہے بلکہ عام آدمی پر واجب ہے اس لئے کہ ہر مسلمان اعمال کا مکلف و پابند ہے اور ہر مسلمان اجتہاد اور دلائل سے واقف ہونے پر مکلف کیا جائے تو بہت سے معاملات اور امور معشیت معطل ہوجائیں گے۔ جبکہ سارے امور اور کسب حلال کیلئے کوشش اور عائلی حقوق وفرائض کی انجام دہی بھی لازمی و ضروی ہے۔ ونیز جمہور علماء کے پاس اجتہاد میں تجزیہ اور اس کے اقسام ہیں اور ان کے پاس مجتہد مطلق کے علاوہ تمام فقہاء مقلدین میں شامل ہیں اور ان کے لئے ان کے حسب درجہ و مرتبہ تقلید لازمی و ضروری ہے۔

اور جو حضرات اجتہاد میں تجزیہ کے قائل نہیں ہے ان کے پاس قرآن مجید و حدیث شریف اور اجماع امت سے مسئلہ کی دلیل و حجت معلوم رکھتے ہوئے کسی کا قول قبول کرنا تقلید نہیں کہلاتا۔ اسی وجہ سے ان کے پاس اہل تقلید طبقات فقہاء میں شامل نہیں ہیں بناء بریں ان کے پا س صرف عامہ المسلمین ہی مقلد کہتے ہیں۔

تقلید کی ضروت۔ شریعت پر عمل کرنے کیلئے جو کوئی اجتہاد پر فائز نہ ہو اور استنباط کی صلاحیت رکھتا ہوں اس کے لئے تقلید ضروری ہے۔ اگر وہ تقلید نہ کرے تو گمراہ ہوجانے کا اندیشہ ہے کیونکہ استنباط مسائل کے لئے علوم عربیہ‘ نحو‘صرف علوم بلاغت‘ عربی ادب سے کامل واقفیت کے بعد تفسیر قرآن کیلئے حسب صراحت علامہ جلال الدین سیوطی رحمۃ اللہ علیہ(۸۰) بطو ر اجناس جملہ (۳۰۰) علوم بطور انواع ضروری ہیں اور احادیث شریفہ علی صاحبھا الصلوۃ والسلام کے راست طور پر فہم و شرح کیلئے اقسام حدیث اور ان کے قواعد و ضوابط اسماء رجال‘ قوی اور ضعیف حدیث ہونا بھی ضروری ہے۔ جو حضرات اس مرتبہ میں نہیں ہیں ان کے لئے ان کے درجہ میں تقلید ضروری ہے تاکہ اپنے قصور فہم اور تقاصر عقل کے سبب غلط راستہ پر جانے سے محفوظ رہیں۔

تقلید نہ کرنے کا حکم۔ تقلید کا انکار در حقیقت اجماع امت اور سواد اعظم کی مخالفت ہے جو موجب ضلال وگمراہی ہے۔

تقلید کی قسمیں۔ تقلید کی دو قسمیں ہیں(۱) تقلید مطلق (۲) تقلید شخصی

تقلید مطلق:

مسائل شرعیہ فرعیہ میں کسی معین امام کے بجائے مختلف ائمہ کے مستنبط کردہ مسائل سے اختیار کرنا۔

تقلید شخصی: عزیمت و رخصت کے مسائل میں کسی معین امام کے مذہب کے اختیارکرنا۔

قرآن مجید سے تقلید کا ثبوت ۔ سورۃ فاتحہ کی آیت ’’اھدنا الصراط المستقیم صراط الذین انعمت علیھم‘‘ تقلید کے وجوب او ر اس کی اہمیت و ضرورت کے بابت قرآن مجید میں.کوئی اور آیت شریفہ نہ بھی ہوتی ہو تو صرف یہ ایک ہی آیت شریفہ اس کے لئے کافی تھی کیونکہ اللہ تعالیٰ کے نیک اورمقرب بندوں کے راستہ پر جن پر اللہ نے انعام کیا ہے چلانے کی دعا کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ اور تقلید میں یہی ہوتا ہے۔

قرآن مجید کے معنی و مفہوم میں بہت سی آیتیں موجود ہیں۔ ’’فاسئلو ا اہل الذکر کنتم لا تعلمون‘‘ اگر تم نہیں جانتے تو اہل ذکر سے دریافت کر لو اسی معنی و مفہوم میں حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جو تمہارے لئے ظاہر ہو اس پر عمل کرو اور جس میں اشتباہ ہو اس کو اس کے جاننے والے کے سپرد کرو(اعلام الموقعین) ’’واتبع سبیل من اناب الی‘‘ جو میری طرف رجوع ہے ان کے راستہ کی اتباع کرو ’’ فلولا نفر من کل فرقۃ منھم طائفۃ لیتفقھو ا فی الدین ولینذرو واقومھم اذا رجعوا الیھم لعلھم یحذرون‘‘ جب ایک جماعت دین میں تفقہ حاصل کر کے اپنی قوم میں جاکر ان کو بتائے گی اور وہ اس پرعمل کریں گے تو اسی کا نا م تقلید ہے۔’’واذا جا ء ھم امر من الامن او الخوف اذا اعوابہ و لوردوہ الی الرسول والی اولی الامر منھم لعلمہ الذین یستنطبونہ منھم‘‘ اہل استنباط کے بتائے مسائل پر عمل کرنے کا نام تقلید ہے۔

تقلید اور حدیث شریف ۔ کثرت سے احادیث شریفہ علی صاحبھا الصلوۃ والسلام میں تقلید کا حکم آیا ہے ۔چنانچہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے ’’انی لا ادری مابقائی فیکم فاقتدو ا بالذین من بعدی ابی بکر و عمر‘‘(ترمذی شریف‘ابواب المناقب) میں نہیں سمجھتا کہ اب میں تم میں رہوں گا پس تم میرے بعد ابو بکر کی اقتداء کرو دینی مسائل میں.اقتداء کرنے کو تقلید کو کہتے ہیں۔ائتموا بی ولیأتم بکم من بعد کم(بخاری شریف) تم میری اقتداء کرو اور تمہارے بعد آنے والے تمہاری اقتداء کریں۔ اس حدیث پاک سے تاقیامت تقلید کا حکم دیا گیا ہے۔

ایک طویل حدیث میں ہیں کہ حضرت معاذ رضی اللہ عنہ کو حضو ر علیہ الصلوۃ السلام یمن کو روانہ کرے وقت ارشاد فرمایا اے معاذ اگر تم قرآن اور حدیث میں مسئلہ نہ ملے تو کیا کروگے آپ نے عرض کیا اجتہاد کرو ںگا۔ان کے اس جواب پر حضور علیہ الصلوۃ والسلام خوشی کا اظہار فرمائے اور خدا کا شکر بجا لائے۔(ترمذی شریف) حضرت معاذ کے بتائے ہوئے مسائل پر اہل یمن کا عمل کرنا تقلید ہی تو ہے۔

خیر القرون میں تقلید:

تقلید کا عمل روز اول سے ہی صحابہ’’ تابعین و تبع تابعین رضوان اللہ اجمعین کے عہد مبارک اور ہر دور میں رہا ہے۔چنانچہ بخاری شریف کی کتاب الفرائض میں ہے کہ ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہ نے ارشادفرمایا ’’لا تسئلو نی مادام ہذا االحبر فیکم‘‘ جب تک تم میں یہ جر یعنی عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ موجود ہیں تم مجھ سے مت پوچھو۔ یہ حدیث شریف تقلید شخصی کی طرف واضح رہنمائی کر تی ہے۔ کہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بعد کسی اور کی طر ف رجوع کرنے کی ضرورت نہیں ان کے علاوہ بہت سے آثار و سنن میں واقعات سے تقلید شخصی کا ثبوت ملتا ہے۔ حضر ت عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں .’’انی لاستحیی من اللہ ان اخالف ابابکر‘‘ مجھے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی مخالفت کرنے میں اللہ تعالیٰ سے حیا آتی ہے۔ حضرت شعبی مسروق سے بیان کر تے ہیں کہ صحابہ کرام میں چھ افراد لوگوں کو فتوی دیا کرتے تھے۔(۱) حضرت ابن مسعود(۲) حضر ت ابی بن کعب (۶) حضرت ابو موسی اشعری رضی اللہ عنھم۔حضرت ابن مسعود حضرت عمر کے قول کے مقابل میں اپنے قول کو ترک کرتے تھے اسی طرح حضرت زید ابن ابی بن کعب کے قول کے مقابلہ میں اور حضرت موسیٰ اشعری‘حضرت علی کے قول کے مقابل اپنے اقوال ترک کردیتے تھے ۔رضوان اللہ علیھم اجمعین حضرت جند رضی اللہ عنہ فرماتے تھے کہ میں حضرت ابن مسعود کے قول کو کسی قول کے مقابل میں ترک نہیں کرو ں گا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ قاضی شریح کو لکھتے ہیں کہ تم کتاب اللہ سے فیصلہ کرو اگر اس میں نہ پاؤ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت پر فیصلہ کرو اور اگر اس میں بھی نہ پاؤ تو صالحین نے جو فیصلہ کیا ہے اس کے مطابق فیصلہ دو(اعلام الموقعین) صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین کے واضح اقوال صریح طور پر تقلید شخصی پر دلالت کرتے ہیں۔

تابعین و تبع تابعین میں تقلید:

تابعین و تبع تابعین کے دور میں تقلیدکی مثالیں دیکھنا ہو تو بخاری شریف پڑھیں کیونکہ امام بخاری نے اپنی کتاب جامع کے چند صفحات کے بعد جگہ جگہ تابعین و تبع تابعین کے اقوال دلیلا ذکر کئے بغیر بطور استشھاد ذکر کرتے ہیں اسی کا نام تقلید ہے اسی طرح یحیی بن معین عبداللہ مبارک‘وکیع بن حرام داود طائی فضیل بن عیاض و غیرہ اہل اللہ اور جلیل القدر محدثین امام اعظم ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کی تقلید کر تے تھے مذکورہ بالا دلائل و براہین سے تقلید کی حجیت اور خیر القرون میں تقلید شخصی کا ثبوت واضح طورپر ملتا ہے اسی طرح ازروئے حدیث شریف’’لا تجتمع امتی علی الضلالۃ‘‘ ساری دنیا مشرق و مغرب شمال و جنوب میں امت کا سواد اعظم اور اہل اللہ‘خاصان خدا کا تقلید پر عمل کرنا اس کی حقانیت کی بین دلیل ہے۔

غیر مقلدین کے اعتراضات:

غیر مقلدین کے عدم جواز پر جو دلائل پیش کرتے ہیں ان میں اہم یہ ہیں۔

(۱)مقلدین امام کے قول کو شارع کی حیثیت دیتے ہیں اور اس کے مقابل میں نصوص کو ترک کردیتے یں اور خود ائمہ کرام سے تقلید کی ممانعت آئی ہے۔ تقلید کی حرمت میںکئی آیتیں موجود ہیں۔

جواب ۔ یہ ایک مقلدین پر بہتان اور اتھام ہے کیونکہ کوئی بھی امام کے قول شارع کا درجہ نہیں دیتا بلکہ ان کے اقوال پر وسیلیٔ عمل کرتا ہے کہ وہ نصوص شارع کیلئے شارح ہیں۔ اس کو بیان اور واضح کرنے اولے ہیں اب رہا کوئی اپنے امام کو شارع کا درجہ دیتا ہے تو ایسی تقلید بالاتفاق ناجائز ہے جیسا کہ ابن قیم اس کے متعلق لکھتے ہیں۔’’فھذا التقلید الذی اجمعت الامۃ علی انہ محرم فی دین اﷲ۔‘‘

(۲) ائمہ کرام سے جس تقلید کی ممانعت آئی ہے حقیقت میں انھوں نے اپنے شاگردوں سے فرمایا ہے جو اجتہاد کی اہلیت رکھتے ہیں اور دلائل کی حجیت اور اس کی صحت کی معرفت پر کامل دسترس رکھتے ہیں جیساکہ ان قیم نے لکھا ہے’’انھم قالوہ لتلامذتھم المؤھلین الذین لدیھم القدرۃ علی معرفۃ حجیۃ الادلۃ و مدی صحتھا وعلی تفھم دلالا تھا فھو لاء لا یصح منھم التقلید الصرف فیمایمکنھم الرجوع الی الادلۃ اما العامی الذی لیس اھلا فلیس کلام الائمۃ موجھا الیھم وفرضہ التقلید قطعا‘‘۔ اس سے واضح ہے کہ جو حضرات اجتہاد کی اہلیت رکھتے ہیں وہ تقلید نہ کریں اور جن میں اہلیت نہیں ہے ان کیلئے تقلید کرنا فرض ہے۔اسی طرح تقلید کے ناجائز ہونے کے سلسلہ میں قرآن پاک کی آیتیں پیش کی جا تی ہے۔ و ہ سب تقلید فی العقیدہ کے بارے میں ہے اور عقائد میں تقلید کرنا بالاتفاق ناجائز و نادرست ہے۔

تقلید شخصی:

تقلید شخصی کا مطلب یہ ہیکہ عزیمت و رخصت کے مسائل میں کسی امام کے مذہب کو اختیار کرنا اور یہ ضروری اس لئے ہے کہ آدمی کو حسب سہولت ائمہ کے بیان کردہ رخصتوں کو اختیار کرنے کی اجازت دی جائے تو اس میں نظام حیات نہ صرف خلل پذیر ہوگا بلکہ ضرروضرار کا بھی موجب ہے اور شریعت میں لاضررولا ضرار اساسی قاعدہ ہے۔

مثلا حق شفعہ امام اعظم رحمۃ اللہ علیہ کے پاس پڑوسی کو حاصل ہے اور امام شافعی رحمہ اللہ علیہ کے پاس پڑوسی کو حق شفعہ نہیں ہے۔

کسی جائیداد کے فروخت ہونے کے وقت پڑوسی اپنے آپ کو حنفی مذہب پر ظاہر کر کے حق شفعہ کا دعوی کرتا ہے اس طرح اپنے فائدہ کی خاطر بائع سے مکان حاصل کر کے حق شفعہ کا دعوی کرتا ہے۔ اس طرح فائدہ کی خاطر بائع سے مکان حاصل کرلیتا ہے اور خود جب بیچنا چاہتا ہے تو خود کو شافعی مسلک پر ظاہر کر کے پڑوسی کیلئے حق شفعہ کا انکار کرتا ہے اور کسی دوسرے کو بیچتا ہے جس سے پڑوسی کو ضرور نقصان پہنچتا ہے اس طرح بیسوں مثالیں موجود ہیں۔

اب رہا یہ سوال کہ مجتہدین دنیا میں بہت گذرے ہیں لیکن ان کو چھوڑ کر ائمہ اربعہ ہی کی تقلید کیوں؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ مذاہب اربعہ کے علاوہ دیگر مذاہب غیر مدون تھے اور ان کے اصول و ضوابط غیر منضبط تھے اسی وجہ سے آہستہ آہستہ تمام مذاہب ختم ہوگئے۔اس کے برخلاف مذاہب اربعہ کے اصول و قواعد اور اس کے جزئیات وفروعات مدون اور موجود ہیں اسی وجہ سے سارے علماء نے مذاہب اربعہ کی صداقت و حقانیت پر اجماع کیا ہے۔ الاشباہ و النظائر میں ہے وقد صرح فی التحری ان الاجماع انعقد علی عدم العمل بمذہب مخالف الاربعہ لانضباط مذاھہبم وکثرۃ اتباعھم۔

صحابہ رضوان اللہ تعالیٰ علیھم اجمعین پیش آمدہ مسائل میں اپنا اجتہادی حکم بتا ئے ہیں لیکن کائنات کے اندر رونما ہونے والے غیر متناہی امور کے لئے دلائل اجمالیہ اور اس کے اصول و قواعد کی تدوین نہیں کئے اور نہ وہ مدون شکل میں موجود ہیں البتہ ائمہ مجتھدین نے اس کے اصول و قواعد انہی صحابہ کے فتاوے کی روشنی میں باقاعدہ مدون کئے اور اس کے مطابق ہزاروں فروع و جزئیات کا استنباط کئے اسی لئے ان اجتہادی مسائل فقہ کو ان ائمہ کی طرف منسوب کیا گیا ہے۔ اسطرح ائمہ کرام اگر چہ کی بڑی تعداد میں گذرے ہیں لیکن چا ر کے سواء کسی کی فقہ تمام تفصیلات کے ساتھ مدون نہیں ہوئی اور نہ موجود ہے اس لئے ان چاروں پر امت کا اجماع قائم ہو ا ان میں سے کسی کی بھی تقلید کرنا در حقیقت صحابہ کی تقلید کرنا ہے۔ اور ان کی تقلید حضور علیہ الصلوۃ السلام کی اتباع اور سنت کی پیروی ہے۔

غیر مقلدین غور کریں کہ کیا ان میں سے ہر ایک کو قرآن و حدیث کا اسقدر فہم حاصل ہے کہ استنباط مسائل کر سکے؟ لاکھوں میں سے کتنے احادیث سے وہ واقف ہے۔جبکہ امام احمد بن حنبل رضی اللہ عنہ کے قو ل کے مطابق مجتہد کیلئے سند ومتن کے ساتھ پانچ لاکھ احادیث یا د ہونا ضروری ہے بلکہ انھیں کی اکثریت عربی ادب کی بنیادی باتوں سے ناواقف ہے۔ اسی وجہ سے ہر غیر مقلد اپنے متعمد علیہ عالم کے بتائے ہوئے مسائل پر عمل کرتا ہے او ر یہ تقلید کے سواء او ر کیا چیز ہے۔

اس وضاحت سے صاف ظاہر ہوگیا کہ سارا اختلاف نزاع لفظی ہے کیونکہ ہر مقلد و غیر مقلد اپنے متعمد علیہ عالم کے قول پر عمل کرتا ہے۔

دور حاضر میں کوئی بھی عالم اپنے تقوی رپرہیز گاری اور اجتہاد کیلئے درکار علوم میں علماء و سابقین بالخصوص ائمہ اربعہ مجتہدین کے عشر عشیر کو نہیںپہنچ سکتا تو کیا یہ بات اچھی نہیں ہوگی کہ اپنے کسی معتمد علیہ عالم کے مقابل میں ائمہ اربعہ جن کے تفقہ اور مجتہد ہونے پر ساری امت کا اتفاق ہے ان پر اعتماد کیا جائے۔اور فروعی اور اجتہادی مسائل میں اس پر عمل کریں۔صدائے عام ہے یار ان نکتہ دان کیلئے-

وصلی اللہ تعالیٰ علی خیر خلقہ سیدنا محمد والہ وصحبہ و بارک وسلم اجمعین۔

 

٭٭٭