Imam Azam Abu Hanifa

فقہ حنفی

فقہ حنفی ‘‘ اہم موضوع ہے ۔ اس سے واقفیت دور حاضر کی شدید ضرورت ہے اللہ تعالی کا ارشاد ہے {و ما أرسلناک اِلا کافۃ للناس بشیرًا و نذیرًا }

اسلام در حقیقت دین فطرت ، کمال تمدن کا نام ہے، اور وہ ایک شامل و کامل دین ہے ۔ ہر زبان و مکان میں صالح للعمل ہے۔ دنیا جہاں کا کوئی مسئلہ اس کے حکم سے باہر نہیں ہے۔

زمانہ میں ’’العالم حادث‘‘ کے مصداق تغیرات ہیں اور ہر وقت اس میں تجدد ہے۔ عصر حاضر علوم و معارف صناعات و اختراعات اور سائنسی ترقی کا دور ہے۔ اور شریعت اسلامیہ بھی ایک آفاقی شریعت ہے فقہ اسلام زمانہ گذشتہ پر ختم نہیں ہوئی بلکہ زمانہ حال و مستقبل کے ہر چھوٹے بڑے مسئلہ پر شامل و محیط ہے۔ علماء سلف نے دنیا کے تمام امور سے متعلق دلائل تفصیلیہ سے احکام کا جو ذخیرہ فراہم کیا ہے۔ ہزاروں سال کے اس انسانی دنیا میں اس کی نظیر نہیں ملتی۔ ’’اِن المتقدم لم یترک للمتأخرین شیئًا‘‘ کے مصداق متقدمین نے تا ابد مسائل جدیدہ کے حل کیلئے اصول و قواعد مدون کئے ہیں جس میں کوئی بات تشنہ نہیں ہے۔ حسب ضرورت ان کو صرف استعمال کرنا اور ان سے استنباط کرنا ہے۔

حضور علیہ و آلہ الصلوۃ و السلام الی یوم القیامۃ معلم بناکر مبعوث ہوئے ہیں اس لئے فقہ اسلامی کا کام بھی ختم نہیں ہوا ہے بلکہ وہ الی یوم القیامہ ہے۔ زمانہ میں پیدا ہونے والے ہر چھوٹے بڑے کام کیلئے فقہ اسلامی اپنے فیصلے سناتی ہے لیکن زمانہ جیسے جیسے دوڑتا ہے فقہ اسلامی بھی اس کے ساتھ مرافقت کرتی ہے۔ اجتہاد کا دروازہ کبھی بند نہیں ہوا ہے اور ائمہ اربعہ کے بعد اس بارہ سو سال سے زائد عرصہ میں کوئی متفق علیہ مجتہد مطلق پیدا نہیں ہوا کسی بھی زمانہ میں کسی بھی نئے مسئلہ کا حل تلاش کرنا مشکل نہیں ہے۔ ہر مسئلہ کا جواب حاضر ہے۔

حاضرین کرام جدید پیدا ہونے والے مسئلہ کے حل کے جو اصول و قواعد ہیں اس کو پیش کرنے سے پہلے نہایت اہم بات آپ یاد رکھیں۔

فقہ اسلامی کی دو ایسی خصوصیات ہیں جو دنیا کے ما بقی تمام مذاہب و ادیان سے فقہ اسلامی کو ممتاز کرتی ہیں اور اس کی وجہ سے فقہ اسلامی ہرزمانہ و مکان کے لئے یکساں مفید ہے:

۱۔  ثبات     ۲۔ مرونت

ثبات کا مطلب یہ کہ وہ نا قابل تنسیخ ہے۔ مرونت یعنی اس کا لچکدار ہونا ہے۔ یہ فقہ ہر زمانہ کے ساتھ برابر چلتی رہتی ہے۔ اور یہ ایک آفاقی قانون ہے اس کے حدود اربعہ سے زمین و آسمان کا کوئی حصہ باہر نہیں انسان چاند پرپہنچا۔ خلائی راکٹوں میں سوار ہوکر کئی کئی ہفتے زمین و آسمان کے بیچ محض فضاء میں سکونت اختیار کی ۔ ٹی وی ، انٹر نیٹ کے ذریعہ آن واحد میں دنیا کے کونے کونے میں اپنی آواز اپنی فوٹو اپنے حرکات و سکنات کو روانہ کر رہا ہے۔

چند گھنٹوں میں ساری زمین پر اوپر نیچے کی ہر سطح سے گزر رہا ہے۔ اس سائینسی ترقیات کی وجہ سے کتنے نئے مسائل پیدا ہوئے بلاد عربیہ سے ہندوستان پہنچنے والے کے لئے تھوڑی ہی دیر میں عصر کے بعد سورج غروب سے پہلے پھر ظہر کا وقت آجاتا ہے۔ پہلی تاریخ کو نکل کر سفر  کرنے والے آدمی کو ابھی دو چار گھنٹے بھی نہیں گزرتے کہ مہینہ پلٹ جاتا ہے ۔ پھر پلٹ کر ۲۹ تاریخ آجاتی ہے۔

معاملات کی دنیا میں کدھر سے کدھر انقلاب آگیا اک منٹ بھی نہیں گزرتا کہ ہندوستان میں رہنے والا تاجر ہزاروں میل دور رہنے والے امریکن تاجر سے کاروبار کرلیتا ہے۔ غرضکہ معاملات ، عبادات ، سیاست ہر موڑ پر نئے مسائل پیدا ہوگئے ہیں۔ خلائی راکٹ میں نماز ، ہوائی جہاز میں نماز تھوڑی دیر میں گزرے ہوئے وقت کا پھر آجانا مقام کی تبدیلی کے ساتھ تاریخوں کا واپس ہونا اور اس میں روزے اور عید کے مسائل ، مال پر قبضہ کئے بغیر فون پر کاروبار کرنا ، زکوۃ کیلئے قیمتوں کا بے حساب اتار چڑھاؤ بیمہ اور شیرز کی مختلف صورتیں ، بینک کا نظام اور کرنسیوں کا اتار چڑھاؤ اور بے شمار ملکی تقالید اور نت نئے رسم و رواج، ہر وقت بدلتے فیشن سے پیدا ہونے والے سینکڑوں مسائل ، مادہ تولید کے ذریعہ جانوروں اور انسانوں کی تخلیق غرضکہ ہر جگہ تجدد کی کار فرمائی ہے۔

ان مسائل کے حل کے لئے مجتہد مطلق کا پیدا ہونا دشوار ضرور ہے مگر اجتہاد کا دروازہ بند نہیں ہے۔ اجتہاد فی المذہب یا اس سے نیچے کے کسی بھی درجہ میں اجتہاد کی صورتیں موجود ہیں، بلکہ پہلے سے زیادہ یہ اجتہاد آسان اور موفر ہے۔ کیونکہ اس کے وسائل پہلے سے زیادہ فراہم ہیں۔ تمام احادیث شریفہ مدون ہیں، اصول فقہ مدون ہیں، لغت اور اس کی قوامیس و ڈکشنریاں موجود ہیں ہر کتاب ہر جگہ فراہم ہے۔

فقہ ایک بحر زخار ہے جس کی گہرائی و گیرائی اللہ تعالی ہی جانتا ہے صرف غوطہ زنی کی ضرورت ہے۔ اس سے موتی مونگے وہی حاصل کرسکتا ہے جو غوطہ زنی کرتا ہے۔ علم فقہ کے شہر میں داخلہ کے لئے اس کے خاص دروازے ہیں اور اس کے سمندر میں غوطہ زنی کے اسباب ہیں جو اس کے اصول کہلاتے ہے، اور یہ دس ہیں (تلک عشرۃ کاملۃ) یہ جملہ دس اصول اجناس کے طور پر ہیں اور ان میں ہر ایک کے بیس انواع ہیں چنانچہ ان دس اصول کو بیس میں ضرب دینے سے دوسو ہوجاتے ہیں اور یہ علوم عربیہ کے قواعد اور فصاحت و بلاغت کے اصول اور فقہ کی مبادیات کے علاوہ ہیں۔

یہ دس اصول بنیاد ہیں فقہ کی ساری عمارت اسی پر قائم ہے:

قرآن مجید :

قرآن مجید کے معانی اور الفاظ دونوں اللہ تعالی کی طرف سے نازل ہوئے ہیں اور قطعی الثبوت ہیں، اللہ تعالی نے اس میں ہر چھوٹی بڑی چیز قانون کی زبان میں بیان فرمائی ہے۔ ارشاد ہے: {و نزلنا علیک الکتاب تبیانًا لکل شيء} (سورہ نحل آیت ۸۹) {ولا رطب و لا یابس اِلا في کتاب مبین} (سورہ انعام آیت ۵۹)

سنت مطہرہ:

اس کی حجیت قرآن کریم سے ثابت ہے: {و ما آتاکم الرسول فخذوہ و ما نہاکم عنہ فانتہوا} (سور ہ حشر آیت ۷) حدیث شریف میں قطعی الثبوت اور ظنی الثبوت دونوں موجود ہیں۔ ثبوت عقیدہ کے لئے قطعی الثبوت ہونا اور وجوب عمل کے لئے ظنی الثبوت اور رجحان ظن ہونا بھی کافی ہے۔ دو گواہوں سے قاضی کا فیصلہ، استقبال قبلہ میں تحری سے نماز پڑھنا یہ سب رجحان ظنی ہی سے ہے۔

شریعت کے ہر حکم و مسئلہ میں قطعی الثبوت کا التزام ایک حرج ہے اور شریعت میں حرج نہیں ہے جیسا کہ اللہ تعالی کا ارشاد ہے: {و ماجعل علیکم فی الدین من حرج} (سورہ حج آیت ۷۸) بہر حال حدیث شریف کا انکار قرآن مجید کا انکار ہے۔

اور ان دو دلیلوں سے اور آٹھ دلائل ہیں:

 اجماع امت:

 {أطیعوا اﷲ و أطیعوا الرسول و أولي الأمر منکم} (سورہ نساء آیت ۵۰) سے اجماع امت کا ثبوت ملتا ہے۔ اور اس جیسی بیشتر آیات قرآنیہ اور احادیث شریفہ ہیں اور حدیث لا تجتمع أمتي علی الضلالۃ یعنی میری امت گمراہ ہر گز نہیں ہوگی ، اس سے اجماع امت واضح ثبوت ہے۔

 قیاس:

علت جامعہ کی بناء پر غیر منصوص علیہ پر منصوص علیہ کا حکم لگانا قیاس کہلاتا ہے۔ جب دونوں میں ایک ہی علت ہے تو دونوں کا حکم بھی ایک ہوگا۔

قرآن کریم کی آیت {فاعتبروا یا أولی الأبصار} (سورہ حشر آیت ۲) میں اعتبار قیاس ہی کا نام ہے { فاِن تنازعتم في شيء فردوہ اِلی اﷲ و الرسول اِن کنتم تؤمنون باﷲ و الیوم الآخر ذلک خیر و أحسن تأویلا} (سورہ نساء آیت ۵۹) اس آیت میں ’’رد‘‘ کا حکم ہے اور یہ ’’رد‘‘ عمل قیاس ہے۔ امت کی تعلیم کے لئے حضور علیہ الصلاۃ و السلام نے قیاس فرمایا: قبیلہ خثعم کی ایک عورت حضور علیہ و آلہ الصلاۃ و السلام کی خدمت میں حاضر ہوئی اور دریافت کی میرے والد پر حج فرض ہوگیا وہ بہت بوڑھے ہیں حج نہیں کرسکتے کیا میں ان کی طرف سے حج کرسکتی ہوں تو آپ نے ارشاد فرمایا: اگر تمہارے والد پر قرضہ ہوتا اور تم اس کو ادا کردیتی ہو تو ادا ہوجائیگا یا نہیں ، تو وہ عرض  کی ہاں ، تو آپ نے فرمایا: اللہ کا قرض تو اس سے زیادہ حق رکھتا ہے کہ اس کو ادا کیا جائے۔ یہ قیاس ہی تو ہے۔

صحابہ بھی قیاس کئے ہیں، حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی استحقاق خلافت کے لئے صحابہ نے قیاس کیا چنانچہ وہ کہتے ہیں کہ حضور علیہ الصلاۃ و السلام نے جب ہمارے دین یعنی نماز کے لئے ان سے راضی ہوئے ہیں تو ہم اپنی دنیا کے لئے ان سے راضی کیوں نہ ہوں گے۔

سیدنا علی رضی اﷲ عنہ نے فرمایا: یعرف الحق بالمقایسۃ عند ذوي الألباب، عقلمندوں کے پاس قیاس کے ذریعہ حق کی معرفت ہوتی ہے قیاس بداہت عقل کا تقاضہ ہے کیونکہ اللہ تعالی دنیا کے تمام امور اسباب کے تحت رکھے ہیں سوائے اس کے کہ کوئی استثناء آئے۔ مثلاً شراب حرام ہے ، اس کی حرمت نشہ کی وجہ سے ہے تو یہ کیسے جائز ہوگا کہ صرف شراب حرام ہو اور دوسری نشیلی مشروبات حلال ہوں۔ ظاہر ہے نشہ کی وجہ سے ہر نشہ کی چیز حرام ہو جائیگی۔ اگر چیکہ اس کا ذکر قرآن میں نہ ہو۔

قیاس کے علاوہ اور ۶ ادلہ ہیں وہ سب قرآن و حدیث سے ثابت ہیں:

استحسان ،  مصلحت مرسلہ،  عرف عام،  استصحاب اصل،  سابقہ شریعت،  کسی صحابی کا مذہب ۔    یہ جملہ دس ہوئے۔

استحسان:

در اصل یہ قیاس خفی ہے کسی قیاس سے ثابت ہونے والے کسی حکم میں سے کسی ایک جزئیہ کو الگ کیا جائے۔ مثلاً  بائع اور مشتری قبضہ سے پہلے کسی چیز کی قیمت میں اختلاف کریں۔ بائع ۲۰ روپئے کہتا ہے اور مشتری اس کا انکار کرکے ۱۵ کہتا ہے۔ اس میں بظاہر بائع مدعی ہے اس کے پاس گواہ نہ ہوں تو مشتری جو بظاہر مدعی علیہ معلوم ہوتا ہے قسم کھائیگا۔ لیکن امام اعظم اور حضرت امام شافعی دونوں حضرات یہ فرماتے ہیں کہ یہاں ایک دوسری جہت بھی ہے وہ یہ کہ دونوں مدعی بھی ہیں اور دونوں مدعا علیہ بھی اس لئے دونوں سے حلف لیں گے۔ اس کے بعد مشتری کو اختیار ہوگا کہ بائع کی بتائی ہوئی قیمت میں اس کولے لے ورنہ بیع کو فسخ کردیا جائیگا۔

احناف اور مالکیہ استحسان کو اختیار کئے ہوئے ہیں، شافعیہ استحسان کا انکار کرنے کے باوجود بعض جگہ استحسان پر عمل کرتے ہیں استحسان شریعت کے مقصد کو زیادہ پورا کرنے والا ہے اس لئے قیاس کے مقابلہ میں استحسان کو ترجیح دیں گے۔

المصلحۃ المرسلۃ :

مصلحت مرسلہ سے مراد کوئی مصلحت جس کے اعتبار کرنے اور نہ کرنے کے متعلق کوئی شرعی دلیل نہ ہو عہد صحابہ میں اس کی بکثرت مثالیں ملتی ہیں مثلاً جیل خانے بنانا ، سکوں کا ڈھالنا، پارک اور چمن بندی کرنا، حسب ضرورت شاہراہوں کی توسیع اور سنگ میل قائم کرنا۔

مصالح مرسلہ کا عبادات و عقائد میں استعمال درست نہیں۔ البتہ معاملات اور عادات و تقالید میں مصالح مرسلہ  اعتبار کیا جاتا ہے۔ کیونکہ معاملات و عادات قابل تغیر و ترقی پذیر ہیں جو بدلتے رہتے ہیں۔ زمان و مکان کے بدلنے سے مصالح مرسلہ میں بھی تعیرات بکثرت ہوتے رہتے ہیں۔ اسی وجہ سے اللہ تعالی نے عقل سلیم کے لئے بڑی گنجائش رکھی ہے اس سے آپ اپنے سینکڑوں مسائل حل کرسکتے ہیں۔ مصلحت مرسلہ کیلئے شرط یہ ہے کہ اس کا کسی نص عام یا خاص سے یا کسی منصوص علیہ جزئیہ سے تعارض نہ ہو اور اجماع سے ثابت شدہ مسئلہ کے خلاف نہ ہو اور مصلحت حقیقی ہو محض خیال نہ ہو یعنی واقعی اس سے کوئی فائدہ حاصل ہو یا کوئی مضرت دفع ہو (۲)  اور وہ مصلحت شخصی نہ ہو بلکہ عمومی ہو ، یعنی کسی ایک شخص مثلاً حاکم یا امیر کوہی اس کا فائدہ ہونے والا نہ ہو۔ کیونکہ ان شروط کے ساتھ یہ مصلحت شارع کے مقاصد کو پورا کرتی ہیں کیونکہ شریعت کا مقصد و مآل جلب منفعت اور دفع مضرت ہے۔

عرف:

حنفیہ کے پاس عرف دلائل شرعیہ میں سے اہم دلیل ہے اس کے اعتبار و ثبوت کی دلیل ’’ما راٰہ المسلمون حسنًا فہو عند اﷲ حسن و ماراٰہ المسلمون قبیحًا فہو عند اﷲ قبیح‘‘ مسلمان جس کو اچھا سمجھیں وہ اللہ تعالی کے پاس اچھا ہے اور جس کو برا سمجھیں وہ اللہ تعالی کے پاس برا ہے۔ جس چیز کیلئے شریعت میں کوئی ضابطہ نہ ہو تو عرف اس کے لئے ضابطہ ہے۔ بعض دفعہ قیاس پر عرف کو مقدم کرتے ہیں عرف کے بارے میں قاعدہ ہے ان العرف لیس بقاض علی النص و لکنہ مقدم علی القیاس۔

حنفیہ کے پاس دوسرے ائمہ کے مقابل میں وسعت بہت ہے۔ عرف کی دوقسمیں ہیں:

۱۔ عرف صحیح: جو دلیل شرعی کے خلاف نہ ہو یعنی کسی واجب کو باطل نہ کرے اور نہ کسی حرام کو حلال کرے۔

۲۔ عرف فاسد: جو دلیل شرعی کے خلاف ہو جو واجب کو باطل اور کسی حرام کو حلال کرے ، مثلا جوے کا رواج اگر عام ہوجائے یا عورتوں کا زینت اور بے پردگی کے ساتھ گھومنا عام ہوجائے اور بہت سے منکرات جو آج تقاریب و غیر تقاریب میں عام ہوگئے ہیں یہ ناجائز ہی رہیں گے ، کیونکہ یہ تمام عرف دلیل شرعی کے خلاف ہیں ، اسی طرح بیوگان سے شادی کرنا عرف میں نا پسندیدہ ہے لیکن غیر شرعی عرف کی وجہ سے حالت نشہ میں ہونے والی طلاق کے عدم وقوع کو اختیار نہیں کیا جائیگا۔ بلکہ طلاق واقع ہوجائیگی۔ و نیز گھریلو کام کاج اور اس طرح دیگر امور یہ سب عرف کے تحت آتے ہیں اس لئے قابل عمل ہوں گے۔

عرف کیلئے شریعت میں ایک اور قاعدہ ہے المعروف کا المشروط  یعنی کسی کام کے معاہدہ کرتے وقت اس سے متعلق عرف کا جو رواج ہے وہ سب اس معاہدہ میں شامل سمجھا جائیگا۔ اگرچیکہ اس کا ذکر نہ کیا گیا ہو۔

استصحاب الاصل:

سابقہ حالت پر جب تک اس کے خلاف کوئی دلیل قائم نہ ہو حکم لگانا استصحاب حال کہلاتا ہے اسی بناء پر قبضہ ، دلیل ملک سمجھا جاتا ہے جب تک اس کے خلاف دوسری دلیل قائم نہ ہو۔

سابقہ شریعت کا غیر منسوخ حکم:

قرآن و حدیث میں سابقہ شریعت کا کوئی حکم مذکور ہو اور اس کے رفع و نسخ کا حکم ہو تو اس کو چھوڑدیں گے ورنہ وہ قابل عمل ہوسکتا ہے، مثلا: مسلم ذمی کے بدلے اور عورت مرد کے بدلے قتل کی جائیگی کیونکہ قرآن مجید میں ہے: {و کتبنا علیہم فیہا ان النفس بالنفس و العین بالعین} (سورہ مائدہ ۴۵) اس آیت شریفہ میں یہودیوں پر قائم حکم قصاص کو بیان کیا گیا ہے چونکہ اس کے نسخ کا کوئی ثبوت نہیں ہے۔ اس لئے شریعت محمدی میں بھی یہ حکم نافذ ہوگا۔

مذہب صحابی:

سنت خلفاء راشدین کو اختیار کرنے میں تمام ائمہ متفق ہیں البتہ دیگر اقوال سے متعلق اختلاف ہے لیکن حضرت امام اعظم ابوحنیفہ رحمۃ اﷲ علیہ قول صحابی کے ہوتے ہوئے قیاس کو اختیار نہیں کرتے ’’یأخذ من شاء من الصحابۃ و یدع من شاء و لا یخرج من قولہم اِلی غیرہم‘‘۔

امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ کے پاس قول صحابی اگر ان کے اجتہاد سے ہے تو وہ حجت نہیں ہے۔ اس سے امام صاحب کی شان میں یا مذہب حنفی پر زبان درازی کرنے والے حضرات غور کریں دنیا میں مذہب حنفی سے بڑھ کر حدیث شریف پر عمل کرنے والا کوئی مذہب نہیں۔ عربی زبان میں ایک لفظ کے کئی معانی ہوتے ہیں اس لئے ایک لفظ کی کئی دلالتیں ہوتی ہیں :

۱۔ دلالت عبارت    ۲۔ دلالت اشارت    ۳۔ دلالت نص    ۴۔ دلالت اقتضاء  ۔

ان مختلف دلالتوں کی وجہ سے صرف ایک حرف سے کئی مسائل مستنبط ہوتے ہیں اور یہ صرف فقہاء کی شان ہے ۔ اس کی مثال پیش کی جاتی ہے:

{و علی المولود لہ رزقہن و کسوتہن بالمعروف} بچہ کی ماں کا نان و نفقہ بچے کے باپ کے ذمہ ہے اور مولود میں ایک حرف ’’ل‘‘ سے ثابت ہوتا ہے کہ بچے کی نسبت باپ کی طرف ہوتی ہے کیونکہ بچے کو ’’المولود لہ ‘‘ کہا گیا۔ یعنی باپ کا بیٹا کہا گیا۔ اور اسی حرف ’’ل‘‘ سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ باپ اگر محتاج ہو تو وہ حسب ضرورت بیٹے کے پیسوں میں سے لے سکتا ہے، کیونکہ بیٹا باپ ہی کا ہے اور اس لئے بیٹے کا مال بھی باپ کا ہوگا ’’انت و مالک لأبیک‘‘ حدیث شریف موجود ہے۔

صرف ایک ہی حرف ’’ل‘‘ سے کتنے احکام و مسائل نکلتے ہیں۔

بہر حال فقہ اسلامی کی بنیاد اور شرعی و ثائق کتاب و سنت ہی ہیں جو ایک حرف یا ایک لفظ کی تبدیلی کے بغیر مکمل محفوظ ہیں ۔ پھر یہ فقہ اسلامی ہر زمانہ کے لئے یکساں مفید ہے کیونکہ یہ نا قابل تنسیخ ہونے کے ساتھ لچکدار بھی ہے، مثلا امور سیاسی جو تیزی سے تغیر اور تبدیل ہوتے رہتے ہیں اس لئے شریعت میں اس کے لئے بڑی لچک رکھی گئی ہے اس کو صرف ایک قالب میں تنگ نہیں کیا گیا۔

چنانچہ خلیفہ کے انتخاب کا مسئلہ ہے شریعت خلیفہ کے صفات کا تعین کرتی ہے اور اس کے انتخاب کو مسلمانوں کا فرض قرار دیتی ہے۔ اس کے انتخاب کا طریقہ احوال و ظروف کے بدلنے کے ساتھ بدل سکتا ہے عام ووٹنگ ہو یا مجلس شوری کے ذریعہ انتخاب ہو یا کسی کو نامزد کردیا جائے ۔ کوئی بھی طریقہ اختیار کریں غیر شرعی نہیں کہلائیگا۔

اسی طرح معاملات کے احکام میں معاملات کے تمام احکامات حکمت پر مبنی ہیں۔ اور اسی حکمت کو علت سے تعبیر کیا گیا ہے۔ اگر کوئی معاملہ واضح نہیں ہے تو اس کی علت پر غور کرکے حکم لگایا جائیگا اور فقہ حنفی میں خاص طور پر معاملات کے اندر مصالح کو ملحوظ رکھا گیا ہے۔ اسی لئے اس میں بہت تیسیر و سہولت ہے اور یہ اسلامی دنیا کی سب سے زیادہ وسیع تر فقہ بن گئی ہے۔ بہر حال فقہ اسلامی کے چند مبادی ہیں معاملات و عبادات میں منجملہ مبادی کے یہ ہے  الأصل في الأشیاء الاِباحۃ کے اہم مبدأ ’’الاِباحۃ‘‘ یعنی کائنات میں جو کچھ بھی ہے وہ سب انسان کے لئے ہی ہے الا یہ کہ کسی نص کے ذریعہ کسی کو حرام قرار دیا جائے۔

{سخر لکم ما في السموات  و ما في الأرض} (جاثیہ ۱۳) {قل من حرم زینۃ اﷲ التي أحرج لعبادہ و الطیبات من الرزق} (سورہ اعراف ۳۲)

۱۔ مثلاً  تدخین یعنی سگریٹ نوشی الأصل في الأشیاء الاِباحۃ اشیاء میں اصل اباحت ہے اس کے تحت لوگ پیتے تھے لیکن اب جبکہ اہل خبرہ اور ماہرین اس کے ضرر کو ثابت کر رہے ہیں تو و یحرم علیہم الخبائث کے تحت حرام یا کم از کم مکروہ ضرور ہوگا۔

۲۔ الضرر یزال شرعًا : شریعت میں کسی کو ضرر پہنچانا نہیں ہے ضرر کو دور کردیا جائیگا اسی لئے خریدو فروخت میں خیار شرط ، خیار عیب ، ، خیار رؤیت کو جائز رکھا گیا ہے۔

۳۔ الضرر لا یزال بالضرر ، ضرر کو ضرر سے دفع نہیں کیا جائیگا ، اسی لئے کسی انسان کو اپنے مال کی حفاظت میں دوسرے کے مال کو نقصان پہنچانے اپنی جان کی حفاظت میں دوسرے کی جان کو ضائع کرنے کی اجازت نہیں دی جائیگی۔

۴۔ عام نقصان سے بچنے کے لئے خاص نقصان برداشت کرلیا جائیگا۔ یتحمل الضرر الخاص للضرر العام ، اس لئے لوگوں سے اموال کی حفاظت کیلئے چور کا ہاتھ کاٹا جائیگا اور اور اسی بناء پر تاجروں کو مصنوعی قلت پیدا کرنے یا دخیرہ اندوزی سے روکا جائیگا۔ ٹرافک کے ہجوم کو کم کرنے آمد و رفت کی سہولت کے لئے مالکین امکنہ کو معاوضہ دیکر مکانات کو توڑا جاسکتا ہے۔

۵۔ الضرورات تبیح المحظورات بحالت مجبوری حرام چیز کو کھانا جائز ہوجائیگا۔ معاملات کو آسان کرنے کے لئے قرض ، مضاربت، مزارعت اور بیع سلم و غیرہ لین دین اسی قبیل سے ہے اسی میں تحسینات بھی داخل ہیں مثلاً اچھے کپڑے اچھا مکان اچھا کھانا پینا کسی جان کو بچانے کیلئے آپریشن ، خون ،چڑھانا وغیرہ اسی قبیل سے ہیں۔ ضبط تولید و غیرہ بھی اپنے شروط کے ساتھ اسی قبیل سے ہے۔ ضرورت کی پانچ قسمیں ہیں:

۱۔دین کی ضرورت   ۲۔نفس و جان کی ضرورت   ۳۔عقلی ضرورت

۴۔نسل کی ضرورت   ۵۔ مال کی ضرورت

۶۔ اہون البلیتین یعنی دونوں مصیبتوں میں آسان مصیبت کو اختیار کیا جائیگا۔ جیسے شوہر مالدار ہونے کے باوجود بیوی کا نان نفقہ نہیں دے رہا ہے تو شوہر کو گرفتار کیا جاسکتا ہے۔ شوہر مجبور و تنگ دست ہے بیوی کو پال نہیں سکتا تو طلاق یا فسخ نکاح کردیا جائیگا۔ اسی طرح غیر اسلامی مذہبی حکومت یا کسی جمہوری سیکولر حکومت میں سے جو بھی حالات و ظروف کے لحاظ سے مسلمانوں کے لئے اہون اور زیادہ منفعت بخش ہوں گے اس کو اختیار کیا جائیگا۔

۷۔ دفع مضرت ، جلب منفعت پر مقدم: کسی آدمی کو خود اس کی ملک میں ایسے تصرف سے روک دیا جائیگا جس سے دوسرے کو نقصان پہنچتا ہے۔

۸۔ تنگی اور حرج کو دفع کرنا اور اس کو دور کرنا بھی ہے۔ رفع الحرج عن الناس کیونکہ شریعت لوگوں کیلئے ان کے دنیا اور آخرت میں فائدہ کے لئے ہے ’’و ما جعل علیکم في الدین من حرج‘‘

۹۔ فرد و جماعت کی اپنے اپنے دائرہ میں آزادی: اسی بناء پر اشتراکیت اور مغربیت غیر شرع ہیں۔ کیونکہ کسی فرد کی آزادی ختم کردی گئی ہے کسی میں فرد کو بے لگام کردیا جار ہا ہے۔

۱۰۔ ان مبادی فقہ میں عدل بھی ہے { اِن اﷲ یأمر بالعدل و الاِحسان} (سورہ نحل آیت۹۰) {و لا یجرمنکم شناٰن قوم علی أن لا تعدلوا اِعدلوا ہو أقرب للتقوی} (سورہ مائدہ آیت۸) اسی بناء پر دشمن پر بھی ظلم کرنا جائز نہیں ہے غیر مسلم حربی کے ساتھ بھی حسن سلوک کرنا ضروری ہے حتی کہ اس کی غیبت کرنا بھی جائز نہں ہے۔ حقوق اﷲ حقوق العباد ہر جگہ عدل وانصاف سے کام لینا ہے۔ یہ چند مبادی ہیں اس سے آپ اندازہ کرسکتے ہیں کہ فقہ اسلامی کس طرح زمانہ کے مسائل کو حل کرتی ہے۔

٭٭٭