madina

آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی عبادتیں اور نمازیں

حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں

رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم قیام فرماتے یہاں تک کہ آپ کے قدمان مبارک پھول جاتے سو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا گیا آپ کیوں اس قدر مشقت اٹھاتے ہیں جبکہ یقینا اللہ نے آپ کے لئے آپ کے اگلے پچھلے گناہ بخش دیئے ہیں۔

تو آپ نے ارشاد فرمایا کیا میں ایک شکرگزار بندہ نہ رہوں۔    (بخاری ۔ مسلم ۔ ترمذی)

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنھما سے روایت ہے کہ وہ اپنی خالہ حضرت میمونہ رضی اللہ عنھا کے پاس رات میں ٹہرے ؍ گزارے۔ کہتے ہیں ، میں تکیہ کے عرض میں  ۔

 حضور اس کے داز میں لیٹے اور آرام فرمائے یہاں تک کہ آدھی رات گزر گئی۔ یا اس سے تھوڑا پہلے یا بعد میں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نیند سے بیدار ہوئے نیند کو اپنے رخ انور سے زائد کرنے لگے۔

اور سورۃ آل عمران کی آخری دس آیتوں کو پڑھے پھر لٹکے ہوئے مشکیزہ کی طرف گئے اور اس سے اچھی طرح وضوء فرمائے پھر نماز کیلئے ٹہر گئے ۔ ؍ پڑھنے لگے۔

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں آپ کے بازوں میں ٹہر گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دائیں ہاتھ کو میرے سر پر رکھا دو رکعت ادا فرمائے پھر دو رکعت پھر دو رکعت پھر دو رکعت پھر دو رکعت پھر دو رکعت۔ پھر وتر ادا فرمائے پھر لیٹ گئے یہاں تک کہ مؤذن کی نداء آئی ؍ اذاں ہوگئی۔ پھر آپ ٹہرے، بلکہ دو رکعتیں ادا فرمائے پھر باہر تشریف لے گئے اور نماز فجر ادا فرمائے۔(بخاری)

حضرت عائشہ رضی اللہ عنھا سے روایت ہے وہ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب کوئی نماز ادا فرماتے تو ہمیشہ اسی میں رہنا پسند فرماتے اور جب آپ پر نیند کا غلبہ ہوتا تو دن کے بارہ رکعت ادا فرماتے اور میں نہیں جانتی کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک ہی رات مکمل قرآن پڑھے ہوں اور نہ ساری رات صبح تک نماز ادا فرمائے ہوں اور نہ سوائے رمضان کے مکمل مہینہ روزہ رکھے ہوں۔(مسلم)

حضرت ام سلمۃ رضی اللہ عنھا سے روایت ہے وہ فرماتی ہیں

کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھتے پھر اسی قدر آرام فرماتے پھر نماز ادا فرماتے جس قدر آرام فرمائے۔ پھر آرام فرماتے جس قدر نماز ادا فرمائے یہاں تک کہ صبح ہوجاتی ۔ (ابوداؤد ۔ ترمذی ۔ نسائی)

حضرت عائشہ رضی اللہ عنھا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا الکفو! جس قدر طاقت رکھو اتنا ہی مشقت اٹھائو کیونکہ بیشک اللہ تعالیٰ نہیں بیزار ہوتا جب تک کہ تم بیزار ہو جائو اور بیشک اللہ کے پاس سب سے بہترین عمل وہ ہے جس پر پابندی ہو اگرچہ وہ تھوڑا ہو۔( ابو داؤد)

حضرت عبداللہ بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں

کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے میرے گھر میں نماز کے متعلق اور مسجد میں نماز کے متعلق دریافت کیا تو آپ نے ارشاد فرمایا یقینا تم دیکھتے ہو کہ میرا گھر مسجد سے کس قدر قریب ہے سو فرض نماز کے  علاوہ مجھے مسجد میں نماز پڑھنے سے زیادہ میرے گھر میں پڑھنا پسند ہے۔(ترمذی ۔ ابن ماجہ)

حضرت معافۃ بنت عبداللہ العرویہ سے روایت ہے کہ

وہ کہتی ہیں کہ میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنھا سے دریافت کی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اشراق ادا فرماتے تھے تو آپ نے فرمایا ہاں چار رکعات اللہ عز وجل جتنا چاہے وہ اضافہ فرماتے۔(مسلم)

( گھر والوں کو قیام اللیل کیلئے بیدار فرمانا )

حضرت علی کرم اللہ وجہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ میرے اور فاطمہؓ کے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات میں تشریف لائے اور ہمیں نماز کیلئے بیدار فرمائے پھر اپنے گھر تشریف لے گئے۔

سو ہماری طرف لوٹ آئے اور ہمیں جگائے اور یہ کہے تم دونوں اٹھو اور نماز ادا کرو۔

حضرت ام مسلمہ رضی اللہ عنھا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک رات نیند سے خوف زدہ بیدار ہوئے۔ اور آپ یہ کہہ رہے تھے۔  سبحان اللہ  اور ایک لفظ میں  لا الہ الا اللہ

حضور علیہ السلام کا روزہ

حضرت ایوب بن عبداللہ بن شقیق رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنھا سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے روزہ کے متعلق دریافت کیا تو آپ فرمائیں کہ آپ علیہ السلام یقینا روزہ رکھتے اور روزہ ترک فرماتے یہاں تک کہ ہم کہتے کہ یقینا روزہ نہیں رکھیں گے اور فرماتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب سے مدینہ تشریف لائے رمضان کے سوا کوئی مکمل ماہ روزہ نہیں رکھے۔ (مسلم ۔ نسائی ۔ ترمذی)

حضرت عائشہ رضی اللہ عنھا سے روایت ہے وہ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم روزہ رکھتے یہاں تک کہ ہم کہتے کہ آپ روزہ نہیں چھوڑیں گے اور روزہ نہیں رکھتے یہاں تک کہ ہم کہتے روزہ نہیں رکھیں گے سو میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نہیں دیکھیں کہ آپ رمضان کے علاوہ کوئی اور ماہ کے روزہ مکمل فرمائے ہوں اورمیں نے دیکھا کہ شعبان میں زیادہ روزے رکھتے۔ (بخاری)

حضرت ابوھریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ رب کے حضور پیر اور جمعرات کو اعمال پیش کئے جاتے ہیں سو میں یہ پسند کرتا ہوں کہ میرا عمل پیش کیا جائے اور میں روزہ دار رہوں۔ (ترمذی ۔ احمد)

حضرت معاذۃ رضی اللہ عنھا سے روایت ہے وہ کہتی ہیں کہ میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنھا سے عرض کیں کہ کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہر ماہ تین دن روزہ رکھتے تھے ۔ آپ فرمائیں ہاں۔ میں نے دریافت کیا۔ (مسلم ۔ ابوداؤد ۔ ترمذی)

حضور کے شب و روزہ کے اذکار اور تعوذات

حضور علیہ الصلاۃ والسلام ہر حال میں مسلسل ذکر میں رہتے کبھی اس سے غفلت نہیں ہوتی۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا گیا کہ کونسا عمل افضل ہے تو آپ نے فرمایا کہ تم اس حال میں مرو کہ تمھاری زبان اللہ عز و جل کے ذکر سے تر رہے ؍ ہو۔(ابن حبان ۔ طبرانی ۔ بیھقی)

اور حضور علیہ الصلاۃ والسلام نے فرمایا کہ اللہ عز و جل نے ارشاد فرمایا کہ مجھ سے مانگنے سے جس کو میرا ذکر مشغول کردے تو میں جو مانگنے والوں کو دیتا ہوں اس سے بہتر اسے عطا کرتا ہوں۔(التاریخ للبخاری ۔ بزار ۔ بیھقی)

حضرت ابو موسی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا مانگا کرتے تھے۔

اللھم اغفرلی خطیئتی … … … … (متفق علیہ)

اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنھا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ کہتے  اللھم اغسل خطا یای  ۔(احمد)

ابو یعلی نے حضرت عبداللہ بن ابی او فی رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا فرماتے ۔

اللھم طھرنی بالثلج …(احمد)

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنھما سے روایت ہے آپ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب کوئی معاملہ آپ کو درپیش ہوتا تو یہ فرماتے  لا الا الہ اللہ الحکیم العظیم پھر دعا مانگتے۔(احمد)

حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنھا سے فرماتی ہیں کہ بے شک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کلمات کے ساتھ دعا مانگا کرتے تھے۔

اللھم انت الاول ، فل شئی قبلک(طبرانی)

حضرت عبداللہ ابن عمر رضی اللہ عنھما سے مروی ہے  اعوذ بکلمات اللہ (ابن ابی شیبہ)

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے-

اللھم انی اعوذبک من العجر (بخاری)

حضرت ابوھریرۃ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ کہتے ہیں کہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا فرماتے

اللھم انی اعوذبک من الصمم والیکم (مارث والبزار)

واعوذبک من الغم

حضرت ابوھریرۃ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے آپ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ فرمایا کرتے تھے۔

اللھم انی اعوذبک من الھم والحزن۔(طبرانی ۔ احمد ۔ ابوداؤد)

٭٭٭