ladies-prayer

عورت کے طریقہ عبادت کا فرق

اسلام دین فطرت ہے، اسلام میں نماز‘ روزہ اور زکوۃ وحج مرد وعورت دونوں پر اپنے اپنے شروط معتبرہ کے ساتھ فرض ہیں۔ اور ان کا طریقہ دونوں کے لئے یکساں ہے۔ البتہ مرد اور عورت کی فطری وتخلیقی ہیئت اور ان کی اپنی اپنی صلاحیتوں میں جو فرق ہے اس مناسبت سے دونوں کے لئے طریقہ عبادت میں صرف چند مسائل میں اختلاف ہے اور اس کی صراحت احادیث شریفہ علی صاحبہا والہ وصحبہ الصلاۃ والسلام میں ہے۔ اختصار کے ساتھ اس کو بیان کیا جاتا ہے مابقی مسائل میں دونوں برابر ہیں۔ سب سے پہلے ہم نماز کو لیتے ہیں۔

نماز:

عورت کو اس کے ماہواری کے ایام میں نماز پڑھنا نہیں ہے اور ان نمازوں کی قضا بھی نہیں ہے ان دنوں کی نمازیں اس کے لئے معاف ہیں۔

ماہواری کے زمانہ میں اذکار اوراد اور قرآنی دعائیں اور درود شریف پڑھ سکتی ہیں البتہ اس کو صاف ستھرا اور باوضوء رہنا چاہئے۔

عورت کے لئے جماعت نہیں:

عورت کے لئے جماعت نہیں ہے وہ اپنے گھر میں تنہا نماز پڑھے گی اور گھر کے دالان سے افضل کمرہ اور کمرہ سے بہتر اس کے خاص کمرہ میں پڑھنا افضل ہے۔ اگر اتفاق سے مرد حضرات کے پیچھے پڑھ لیتی ہے تو نماز ہوجاتی ہے لوٹانے کی ضرورت نہیں ہے۔ ایسی صورت میں اس کو مردوں کی آخری صف کے پیچھے کھڑا ہونا ہے اور اگر عورتیں اپنی جماعت بنالیتی ہیں تو جو عورت ان کی امامت کرے گی اس کو صف کے درمیان میں ٹہرنا ہے اور اس کی ایڑی مقتدی کی ایڑی سے آگے رہنا ہے۔

عورت کے لئے نماز میں ستر پوشی:

ائمہ اربعہ کے پاس عورت نماز میں اپنا چہرہ‘ ہتیلیاں اور قدم کھلا رکھ سکتی ہے، اس کے علاوہ مابقی جسم کو اور اپنے بالوں کو ڈھانکنا ضروری ہے،  ورنہ نماز نہیں ہوگی۔ ستر کا یہ مسئلہ نماز میں ہے، حجاب یعنی پردہ کے مسائل وہ الگ ہیں عورت کے لئے پردہ کے مسائل سے واقفیت بھی ضروری ہے۔ اس مضمون میں اس کی گنجائش نہیں ہے۔

قیام اور تکبیر تحریمہ کے مسائل:

عورتوں کے لئے قیام فرض ہے، پیروں کو پھیلانا جائز نہیں فطری طور پر جسقدر تحمل کرسکتے ہیں چار انگل یا اس سے کچھ زیادہ کشادہ رکھ سکتے ہیں۔

تکبیر تحریمہ کے لئے ہاتھوں کو کندھوں تک اٹھائیں اور انگلیوں کو ملا کر رکھیں، اور سیدھے ہاتھ کی ہتیلی بائیں کے اوپر رکھ کر دونوں کو سینہ پر رکھیں، کلائی کو نہ پکڑیں بلکہ سیدھی ہتیلی کو بائیں ہتیلی کے اوپر رکھ دیں۔

قرأت وتکبیرات:

عورت کے لئے ہر نماز میں قراء ت آہستہ ہے اور انتقالات کی تمام تکبیرات آہستہ بولیں گی البتہ اگر عورتوں کی امامت کوئی عورت کر رہی ہے تو جہری نمازوں میں قراء ت اور تکبیرات انتقالات زور سے ہے۔

رکوع اور سجدہ:

رکوع میں ہتیلیوں سے گھٹنوں کو پکڑنا نہیں ہے صرف اسقدر جھکنا ہے کہ انگلیاں گھٹنوں پر رکھ دی جاسکیں۔

سجدہ میں کہنیوں کو اٹھانا نہیں اور بازوؤں کو کھولنا نہیں بلکہ زمین پربچھا دینا ۔

قعدہ اور تشہد:

قعدہ میں سرین پر بیٹھنا اور دونوں قدم سیدھے طرف نکالدینا۔ اور تشہد میں اشہد ان لا پر انگلیوں سے حلقہ بنائے بغیر شہادت کی انگلی کو اٹھاکر الا اللہ پر رکھ دینا۔ یہ فرق احادیث سے ثابت ہے اس کے لئے مصنف ابن شیبہ وغیرہ کو دیکھا جائے۔

سنن ونوافل: سنن اور نوافل میں مرد وعورت کے مسائل میں کوئی فرق نہیں ہے۔

تراویح:

تراویح کی نماز بھی عورت کے لئے (۲۰) بیس رکعات ہے مگر اس میںعورت کے لئے جماعت نہیں ہے اگر جماعت بنائیں تو امامت کرنے والی عورت صف کے درمیان میں کھڑے رہیگی۔ اور عورت کے لئے بھی تراویح میں ایک قرآن ختم کرنا سنت ہے، اگر نہیں ہوسکتا ہے تو الم تر سے سے ہی بیس رکعات پڑھے گی۔

جمعہ اور عیدین:

عورت کے لئے جمعہ کی نماز نہیں ہے۔ جمعہ کے دن ظہر کی نماز پڑھے گی اگر اتفاق سے جمعہ کی نماز مسجد میں امام کے پیچھے پڑھ لے تو دوبارہ ظہر پڑھنے کی ضرورت نہیں اور عورت کے لئے عید کی نماز بھی نہیں ہے۔ عید کے دن گھروں میں نفل نماز عام نفل نماز کے طریقہ پر پڑھ سکتی ہے اور اگر زائد تکبیرات کے ساتھ پڑھتی ہے تو جائز ہے۔ اگر وہ اتفاق سے مسجد میں مردوں کے پیچھے پڑھ لیتی ہیں تو ان کی صف مردوں کے آخر میں ہوگی۔

روزہ:

روزہ میں فرق صرف اسقدر ہے کہ وہ ماہواری کے زمانہ میں روزہ نہیں رکھے گی اور ماہواری کے دنوں کے گنتی رکھ کر رمضان شریف کے بعد اس کی قضا کرنا ضروری ہے کوشش کرے کہ جلد از جلد قضاء کرلے یہ روزے معاف نہیں ہوسکتے جلد نہ ہوسکے تو زندگی میں جب جب موقعہ ملے بیک وقت یا جب بھی موقعہ ملے تھوڑے تھوڑے کرکے سہی قضا کرنا ضروری ہے۔ روزہ کا طریقہ اور مابقی مسائل مرد وعورت دونوں کے لئے یکساں ہے۔

زکوۃ :

 زکوۃ کے مسائل میں مرد وعورت کے درمیان کوئی فرق نہیں ہے۔ حنفی مسلک کے مطابق عورت کے استعمال کے زیورات پر بھی نصاب کے مطابق زکوۃ فرض ہے۔ شوہر‘ بیوی‘ باپ‘ بیٹا ہر ایک اپنی اپنی زکوۃ اپنے مال سے نکالیں گے بیوی اور ماں کی زکوۃ شوہر ‘ باپ یا بیٹے پر نہیں ہے۔ صدقہ فطر کے مسائل بھی اسی طرح ہیں۔

بیوی کا نان نفقہ شوہر پر اور ماں کا اور نابالغ نچوں کا بالغ لڑکیوں کا شادی سے پہلے تک نان نفقہ باپ پر ہے مگر ہر ایک کی زکوۃ اور صدقہ فطر بشرطیکہ وہ صاحب نصاب ہوں ان کے مال میں سے ایک دوسرے پر یا باپ پر اس کی ذمہ داری نہیں ہے البتہ نابالغ بچوں کا صدقہ فطر باپ پر ہے۔

حج کے مسائل:

مرد وعورت کے حج کے مسائل وطریقہ تقریبا یکساں ہے البتہ عورت کے لئے حج کے بعض مسائل میں فرق ہے۔ عورت کا احرام بس یہ ہے کہ وہ چہرہ کو کپڑا لگنے نہ دے عورت احرام میں سلے ہوئے اور رنگین کپڑے پہن سکتی ہے۔  ماہواری کے دنوںمیں مسجد حرام اور مسجد نبوی میں نہ جائے اورطواف ان دنوں میں نہیں کرسکتی۔ مسجد حرام کے باہر بیٹھ سکتی ہے اور کعبۃ اللہ کو دیکھ سکتی ہے ۔ لبیک پڑھ سکتی ہے اور ذکر کرسکتی ہے۔ اس کا اس کو ثواب ملے گا۔

عورت کے حج کے سفر کے لئے محرم کا ہونا ضروری ہے۔ مکہ مکرمہ کی رہنے والی عورتوں کے لئے محرم کی ضرورت نہیں۔

طواف زیارت وطواف وداع:

عورت کے لئے طواف میں اضطباع اور رمل نہیں ہے۔ اور صفا مروہ میں بھی دو ہرے ستونوں کے درمیان بھی عورت کے لئے اطمینان سے چلنا ہے۔ اور مزدلفہ سے منی کو جلدی آنا چاہتی ہے تو فجر سے پہلے بھی نکل سکتی ہے۔ طواف زیارت ضروری ہے بارہ تاریخ تک ماہواری کی وجہ سے نہیں کرسکی تو ماہواری جب بھی ختم ہو طواف زیارت کرے تو دم دینے کی ضرورت نہیں۔ اور طواف وداع معاف ہے مکہ مکرمہ سے نکلنے کا وقت آگیا مگر ماہواری کے دن ہیں تو اس عورت کے لئے طواف وداع معاف ہے۔

٭٭٭